اتوار، 28 فروری، 2016

میں کیوں لکھتا ہوں ؟

7 comments

کاغذ اور قلم بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ قلم اور تختی کا بچپن سے قائم رشتہ اس وقت کی بورڈ اور سکرین میں بدل گیا جب میں نے انٹر نیٹ پر رنگ برنگے اردو بلاگ دیکھے،میں مشکور ہوں جناب مصطفٰی ملک صاحب کا جن کی تحریک نے مجھ جیسے طالبعلم کو اردو بلاگرز کی صف میں لا کھڑا کیا ،اور حقیقت یہی ہے کہ میں آج بھی کلاس میں سب سے آخری رو میں بیٹھا وہ طالب علم ہوں جسے اپنا سبق یاد نہیں ہوتا ۔
بس احساسات کی ایک دولت ہے جو بے چین کرتی ہے تو خیالات قلم کے ذریعے قرطا س پہ بکھرتے چلے جاتے ہیں اوریوں کمپیوٹر کے کی بورڈ پہ ٹھک ٹھک چلتی انگلیاں ان خیالات کو پردہ سکرین پر الفاظ کی صورت ڈھا ل دیتی ہیں جس کی نتیجے میں ایک ذہنی سکون اور ایک نامکمل سی آسودگی طبیعت میں در آتی ہے کہ میں نے اپنے حصّے کاکام مکمل کر لیااس لئے کہ
ڈھنگ کی بات لوگ سن لیں گے

شوروغوغا کے باوجود حسن


حرفِ آرزو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواہشوں اور آرزؤں کو زبان دینے،کچھ دل کی باتیں آپ تک پہنچانے اور کچھ آپ کی باتیں سننے،کچھ پرانے قصّے دہرانے،شاندار ماضی کا تذکرہ کرنے،اس دیس اور اس دیس کے گلی کوچوں اور چوکوں چوراہوں اس کی بستیوں اور گوٹھوں میں رچی بسی حسِین روایات اور خوشبوؤں کا نام ہے گویا محسوسات سے معنویّت کا سفر حرفِ آرزو کا عنوان ہے

یہ سوال میں نے خود اپنے آپ سے کیا
کہ آخر میں کیوں لکھتا ہوں؟؟؟؟؟
تو دل کے کسی نہاں خانے سے کوئی آوازجواب بن کے ابھری کہ تم زندگی کی اس چہل پہل میں سرگرداں کیوں نظر آتے ہو،تمہاری آنکھیں کیوں اردگرد کے مناظر کو دیکھتی اور ذہن کے پردوں میں محفوظ کرتی چلی جاتی ہیں ،اور کیوں تمہارا تھکن سے چور بدن نیند کی وادیوں میں اتر کر پرسکون ہو جاتا ہے
تب مجھے معلوم ہواکہ خوابوں اور خیالوں ۔۔۔۔۔۔۔ تجربے اور مشاہدے اور سوچ وفکر کو لفظوں کا پیرہن دے کر قلم وقرطاس کے حوالے کرنا میری فطرت کا تقاضا ہے،لکھنا میرا شوق ہے جسے میرے قارئین کے تبصروں اور ان کی حوصلہ افزائی نے جلا بخشی،مطالعے نے مجھے لفظوں کا چناؤ سکھایاتو حالات و واقعات نے اس شوق کو جنون بنا ڈالا،
مستقبل میں میں اپنے بلاگ کو کہاں دیکھتا ہوں تو بس اتنا ہی کہوں گا
اپنا چہرہ ہو ہر اک تصویر میں
فن یہی ہے اور یہی ہے معراجِ فن
یہ دو منٹ کی وہ تقریر ہے جو اردو بلاگرز کی منتخب تحاریرپر مشتمل کتاب "بے لاگ"کی تقریب رونمائی میں 28 فروری 2016 کو الحمرا ہال لاہور میں کی گئی۔

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers