جمعہ، 17 اپریل، 2015

سلام تم پر افق کے اس پار جانے والو

1 comments

میں نے کبھی اسے دیکھا نہیں،میں کبھی اس سے ملا نہیں، لیکن یقیناً وہ ایسا تھا کہ اس سے ملنے، اسے دیکھنے، اس سے باتیں کرنے اور اس کی باتیں سننے کو جی کرے۔ میرا اس سے پہلا تعارف تب ہوا جب مجھے سالگرہ کے موقع پراس کی طرف سے عربی میں لکھا دعاؤں بھرا ایک خوبصورت پیغام موصول ہوا۔


پھر وقتاً فوقتاً ان سے بات چیت ہوتی رہتی۔ سینے میں امّت کادردلئے یہ نوجوان "سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے" کی عملی تصویر تھا،اس کا ہر انباکس میسج اس کی گواہی دیتا خوشی کا لمحہ ہو یا درد کی داستاں اس کی طرف سے اس کا پیغام امت کا درد لئے ہوتا
عید مبارک کے ایک پیغام میں لکھا
السلام علیکم
جنابِ محترم ڈاکٹرمحمد اسلم فہیم صاحب
آپ اورآپ کےاہلِ خانہ کو ہم سب کی جانب سےعیدِ قرباں کی خوشیاں مبارک ہوں ۔۔۔۔۔جب بھی ایسے مسرت اور خوشی کے لمحات آئیں تو آپ مکمل خیر و عافیت سے ہوں ۔۔۔۔اپنی نیک تمناؤں میں مجھے اور میرے اہلِ خانہ اور پوری امت مسلمہ کو ضرور یاد رکھیے گا
جزاک اللہ

آپ کا بھائی
عطاءسراجی

 مصر کے مسلمانوں پر "میدان الرابعہ" میں ٹوٹنے والی قیامت کے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا تحریک ہو یا بنگلہ دیش کے نام نہاد عدالتی کمیشن کی جانب سے پاکستان پسندوں کو سنائی جانے والی پھانسیوں کے خلاف ردِّ عمل کشمیریوں کی تحریکِ آزادی ہو یا غزہ کے مظلوم مسلمانوں پرڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف اٹھنے والی کوئی تحریک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نوجوان نے "قلم" کا حق ادا کیا۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو اس نے  بنگلہ دیش میں قمرالزمان کی پھانسی کے خلاف کیسے خوبصورت الفاظ میں اپنا دردِ دل بیان کیا 
"یہ قانون فطرت ہے کہ اس دنیا میں جو پیدا ہوتا ہے وہ ایک دن ضرور مرتا ہے،اگر دنیا کی زندگی کا انجام موت ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم ایک لمحہ کیلئے زندہ رہیں یا ایک صدی تک زندہ رہیں۔ مرنے والی کی قبر سے دنیا صرف یہ پوچھتی ہے کہ تم زندہ رہے تو کس شان سے زندہ رہے اور مرے تو کس آن سے مرے"
عطاء سراجی خود بھی ایسا ہی تھا زندہ رہا تو پورے قد سے کھڑا رہا اور ہسپتال میں جب وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھا تو کتنے ہی ہاتھ تھے جو اس کی سلامتی کیلئے ربِّ ذوالجلال کے حضور دست بہ دعا تھے اور آج جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا تو اس حال میں کہ ہزاروں نہیں لاکھوں ہاتھ اس کی مغفرت کیلئے اٹھے ہوئے ہیں 
سلام تم پر افق کے اس پار جانے والو

1 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شکریہ

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers