ہفتہ، 25 اپریل، 2015

نیکی

3 comments

سوشل میڈیا پراوٹ پٹانگ حرکتیں کرنا بےمقصد شاعری،بے تحاشا گروپس اور پیج جہاں وقت کے ضیاع کاباعث ہیں تو وہیں انسانی "نامہ اعمال" میں کچھ فضولیات کے اندراج کا باعث بھی لیکن اس سب کچھ کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو آج کے اس دور میں بڑھتے ہوئیے اس غیر روایتی میڈیا کو اپنی اور دوسروں کی آخرت سنوارنے کیلئے استعمال کرتے ہیں برادرِ محترم محمد سلیم کا نام اس فہرست میں بہت اوپر لکھا نظر آتا ہے۔ تو بات ہو رہی تھی سوشل میڈیا کی اوٹ پٹانگ حرکتوں کی، لوگوں کی دیکھا دیکھی چند دن پہلے میں نے بھی ایک سٹیٹس ڈال دیا لائکس اور کمنٹس کی لائن لگنا شروع ہوئی ہی تھی کہ ایک دوست کی طرف سے ان باکس پیغام موصول ہوا واہ جی واہ۔ "گناہ" کا ثواب کماکر فیس بک پر اسکے ہزاروں کی تعداد میں گواہ بھی بنالئےاب آپ کے اس "گناہ" والے اسٹیٹس کی وجہ سے جتنے لوگ وہ "گناہ" کریں گے۔۔۔۔ان کے "ثواب" میں سے آپ کا بھی حصہ۔۔۔۔۔۔یعنی "صدقہ جاریہ" ہو گا۔نہ کریں یار۔ کرنا ہی ہے تو چھپ چھپاکر کرلیں
میں نے ان کا پیغام پڑھا اوراپنا سٹیٹس ڈیلیٹ کر ڈالا لیکن جو پڑھ چکے سو پڑھ چکے گناہ کا گواہ جتنوں نے بننا تھا وہ تو بن چکے لیکن اس شخص کیلئے دل سے ڈھیروں دعائیں نکلتی ہیں جس نے میری غلطی کی نشاندہی کی
اس موقع پر نبی اکرم ﷺ کی ایک حدیث مبارک یاد آرہی ہے کہ مومن، مومن کا آئینہ ہے اسے اس میں عیب نظرآئے تو اصلاح کرے، میرے اس بھائی نے میری اصلاح کرکے اپنے مومن ہونے کا حق ادا کیا اس کی نیکی قیامت کے روز یقیناً اس کیلئے باعثِ اجر وثواب ہوگی لیکن میں بھی اس کی نیکی کو ہمیشہ یاد رکھوں گا کہ اس کی یہ نیکی میرے نزدیک بہت بڑی ہے کیوں کہ نبی مہربان ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایاکہ
 لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقٰی أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ‘‘ وَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم تَبَسُّمُکَ فِیْ وَجْہِ أَخِیْکَ لَکَ صَدَقَۃٌ۔‘‘ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ کُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ أَنْ تَلْقٰی أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِکَ فِیْ إِنبَائِ أَخِیْکَ۔)) 
’’نیکی میں سے کسی چیز کو بھی حقیر نہ جانو۔ چاہے تم اپنے (مسلمان) بھائی کو ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ ہی ملو۔‘‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے: ’’تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرا دینا بھی تمہارے لیے نیکی ہے۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے: ’’ہر بھلائی ، خیر کا کام نیکی ہے اور خیر کے کام میں سے یہ بھی ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کو ہشاش بشاش چہرے سے ملو۔ اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے ( کنویں والے)ڈول میں سے اپنے بھائی کے برتن میں بھی کچھ ڈال دو۔‘‘ (یوں تمہارے مسلمان بھائی کے دل میں بھی خوشی پیدا ہو گی۔)

جمعہ، 17 اپریل، 2015

سلام تم پر افق کے اس پار جانے والو

1 comments

میں نے کبھی اسے دیکھا نہیں،میں کبھی اس سے ملا نہیں، لیکن یقیناً وہ ایسا تھا کہ اس سے ملنے، اسے دیکھنے، اس سے باتیں کرنے اور اس کی باتیں سننے کو جی کرے۔ میرا اس سے پہلا تعارف تب ہوا جب مجھے سالگرہ کے موقع پراس کی طرف سے عربی میں لکھا دعاؤں بھرا ایک خوبصورت پیغام موصول ہوا۔


پھر وقتاً فوقتاً ان سے بات چیت ہوتی رہتی۔ سینے میں امّت کادردلئے یہ نوجوان "سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے" کی عملی تصویر تھا،اس کا ہر انباکس میسج اس کی گواہی دیتا خوشی کا لمحہ ہو یا درد کی داستاں اس کی طرف سے اس کا پیغام امت کا درد لئے ہوتا
عید مبارک کے ایک پیغام میں لکھا
السلام علیکم
جنابِ محترم ڈاکٹرمحمد اسلم فہیم صاحب
آپ اورآپ کےاہلِ خانہ کو ہم سب کی جانب سےعیدِ قرباں کی خوشیاں مبارک ہوں ۔۔۔۔۔جب بھی ایسے مسرت اور خوشی کے لمحات آئیں تو آپ مکمل خیر و عافیت سے ہوں ۔۔۔۔اپنی نیک تمناؤں میں مجھے اور میرے اہلِ خانہ اور پوری امت مسلمہ کو ضرور یاد رکھیے گا
جزاک اللہ

آپ کا بھائی
عطاءسراجی

 مصر کے مسلمانوں پر "میدان الرابعہ" میں ٹوٹنے والی قیامت کے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا تحریک ہو یا بنگلہ دیش کے نام نہاد عدالتی کمیشن کی جانب سے پاکستان پسندوں کو سنائی جانے والی پھانسیوں کے خلاف ردِّ عمل کشمیریوں کی تحریکِ آزادی ہو یا غزہ کے مظلوم مسلمانوں پرڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف اٹھنے والی کوئی تحریک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نوجوان نے "قلم" کا حق ادا کیا۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو اس نے  بنگلہ دیش میں قمرالزمان کی پھانسی کے خلاف کیسے خوبصورت الفاظ میں اپنا دردِ دل بیان کیا 
"یہ قانون فطرت ہے کہ اس دنیا میں جو پیدا ہوتا ہے وہ ایک دن ضرور مرتا ہے،اگر دنیا کی زندگی کا انجام موت ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم ایک لمحہ کیلئے زندہ رہیں یا ایک صدی تک زندہ رہیں۔ مرنے والی کی قبر سے دنیا صرف یہ پوچھتی ہے کہ تم زندہ رہے تو کس شان سے زندہ رہے اور مرے تو کس آن سے مرے"
عطاء سراجی خود بھی ایسا ہی تھا زندہ رہا تو پورے قد سے کھڑا رہا اور ہسپتال میں جب وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھا تو کتنے ہی ہاتھ تھے جو اس کی سلامتی کیلئے ربِّ ذوالجلال کے حضور دست بہ دعا تھے اور آج جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا تو اس حال میں کہ ہزاروں نہیں لاکھوں ہاتھ اس کی مغفرت کیلئے اٹھے ہوئے ہیں 
سلام تم پر افق کے اس پار جانے والو

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers