سوموار، 6 اکتوبر، 2014

جمرات کی کنکریوں کا معمہ

2 comments
بچپن میں جب حاجی حج سے واپس آتے تو کھجوروں اور زم زم کے شوق میں ہم بھی بڑوں کی طرح ان سے ملنے چلے چلتے،حج کے تذکرے ہوتے، ہم نے اتنا سفر پیدل کیا،،ایسے طواف کیا ، ایسے شیطانوں کو کنکریاں ماریں تو دل میں ایک نقشہ سا بن جاتا کہ شاید وہاں کوئی شیطان کھڑے ہوتے ہوں گے جنہیں یہ حاجی صآحبان کنکریاں مار کے آتے ہیں،پھر حاجی یہ بھی بتاتے کہ جن لوگوں کا حج اللہ پاک قبول کر لیتے ہیں ناں ان کی کنکریاں وہاں سے راتوں رات غائب ہو جاتی ہیں،اور جن کا حج قبول نہیں ہو تا ان کی ماری گئی کنکریاں ایسے ہی پڑی رہ جاتی ہیں،ہم بھی بڑوں کی طرح سبحان اللہ سبحان اللہ کہے جاتے۔جن کا حج قبول نہیں ہوتا ان کیلئے دل سے افسوس ہوتا ہم حاجی صاحب کی لائی کھجوریں اور آبِ زمزم نوشِ جاں کرتے اور گھروں کو لوٹ آتے۔
وقت گزرتا رہا لیکن شیطان کو ماری جانے والی کنکریوں کا سوال تشنہ جواب ہی رہا، لیکن اس حوالے سے "العربیہ ٹی وی" کی ایک رپورٹ نے اس سوال کا جواب دے دیا۔

وادی منیٰ میں سعودی حکومت کے تعمیر کردہ الجمرات پل کا پندرہ میٹر زیر زمین تہ خانہ ہے جہاں خودکار مشینوں کے ذریعے تینوں شیطانوں کو ماری گئی کنکریاں خود بخود الگ الگ ہو کر جمع ہوتی رہتی ہیں اور پھر انھیں ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے۔
العربیہ کے نمائندے کو جمرات پُل کے تہ خانے میں جانے اور وہاں اس نظام کو ملاحظہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ انھیں بتایا گیا کہ یہ نظام الیکٹرنک ڈورز کی طرح کام کرتا ہے۔ اور یہ جمرات کے تہ خانے میں جمع ہونے والی کنکریاں کو بڑی تیزی سے ہٹا دیتا ہے۔جمرات کے تہ خانے میں ''دو مشینی نظام'' کام کرتے ہیں اور وہ دونوں کنکریوں کو زمینی سطح سے مختلف رفتار سے منتقل کرتے ہیں۔ اس نظام کے دروازوں، ان کی طرف آنے والی کنکریوں کی مقدار اور انھیں جمع کرنے کے نظام کو برقی رو سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس میں کنکریوں کو الگ تھلگ کرنے کے لیے سنسر بھی لگے ہوئے ہیں۔ حج کے دنوں کے بعد جب کنکریوں کی مقدار ایک ہزار ٹن تک پہنچ جاتی ہے تو حجاج کے مشاعر سے روانہ ہونے کے بعد ان کنکریوں کو مخصوص مقامات کی جانب بھیج دیا جاتا ہے۔گذشتہ برسوں کے تجربات کی روشنی میں جمرات پل پر استعمال شدہ کنکریوں کی مقدار تین سو ٹن تک پہنچ جاتی ہے۔ جمرات پل کی ہر منزل پر برقی گیٹ لگے ہوئے ہیں اور یہ الیکٹرانک نظام انھی برقی دروازوں کے ذریعے کام کرتا ہے۔ یہ گیٹ کنکریوں کو پل کے نیچے لگے کمپریسرز کی جانب بھیج دیتے ہیں۔ الجمرات پُل کے تہ خانے میں نگرانی کے لیے کیمرے نصب ہیں اور وہاں تحفظ کے لیے دوسرے عمومی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
العربیہ ٹی وی کی اس رپورٹ نے برسوں کا معمہ حل کردیا، ویڈیو دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں 

2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شکریہ

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers