جمعرات، 7 اگست، 2014

سِکھوں کے گنے،طالب علم اور فیس بک کا لائک

1 comments
لوگوں کے سکھوں کے بارے میں لطیفے سن سن کر اور سکھوں کے بے وقوف ہونے کی باتیں کرتے دیکھ کر سکھ برادری سر جوڑ کے بیٹھی اور اس بات  پر سوچ بچار شروع ہوئی کہ کوئی ایسا کام یا کارنامہ سرانجام دیا جائے کہ لوگوں پر عقل مند ہونے کی دھاک بیٹھ جائے، برادری کے سرپنچوں نے طرح طرح کے مشورے دئیے، کافی بحث ومباحثہ ہوا اور طے یہ پایا کہ علاقے کے لوگوں کی بہتری کیلئے ایک سکول بنایا جائے جہاں بچوں کی مفت تعلیم کا بندوبست ہو مشورہ دینے والے کی خوب واہ واہ ہوئی اور اس سے پہلے کہ اجلاس برخواست ہوتا ایک "عقلمند سکھ" نے سوال کر ڈالا یہ سکول بنے گا آخر کہاں اور پھر یہ بات بھی طے ہوگئی کے علاقے کے ایک تگڑے "زمیندار سکھ" نے سکول کیلئے زمین دینے کا اعلان کر دیا ابھی اجلاس ختم ہوا ہی تھا اور سردارلوگ اپنے گھروں کو روانہ ہونے ہی کو تھے کہ ایک اور سرپنچ کے ذہن میں معلوم نہیں کیسے یہ بات آگئی کہ آخر زمین بھی مل ہی جائے گی لیکن سکول کی بلڈنگ بنانے کیلئے ایک اچھی خاصی رقم درکار ہو گی تو یہ بندوبست بھی کر کے ہی جایا جائے اور بالآخر سردار آپس میں سر جوڑے سکول کی تعمیر کیلئے فنڈ کے انتظامات کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے کہ درمیان میں ایک اور مسئلہ پیدا ہوگیا، گاؤں کے ایک بااثر سکھ نے دہائی دی کہ سردارو تم سکول تو بنا ہی لو گے لیکن دریا کے اس پار جو ہمارے مخالفین کا گاؤں ہے ناں ان کے بچے بھی اس سکول میں لازمی ایڈمشن لیں گے کیونکہ ہم سکول میں کسی کو بھی داخلہ لینے سے منع کرنے سے تو رہے اور اگر وہ یہاں سکول میں پڑھنے آئیں گے ناں تو تو واپسی پر ہمارے کماد کے کھیتوں سے گزرتے ہوئے گنے ضرور توڑ کے لے جائیں گے اور اس طرح ہماری فصل کا تو ستیا ناس ہو جائے گا سرپنچوں کے سربراہ نے فیصلہ دیا کہ سکول بنانے سے پہلے اس گاؤں کے بچوں سے نمٹ لیا جائے جو ہماری فصلوں کے دشمن بن کر ان کی تباہی کا سامان کریں ان کی خوب ٹھکائی ہونی چاہئیے۔ تمام سکھ کرپانیں سجائےدریا پار کے گاؤں پر حملہ آور ہوئے اور بچوں کا مار مار کر بھرکس نکال دیا جو بچانے کو آئے تو ان کو بھی خوب پھینٹی لگائی عورتوں نے ہاتھ جوڑے کہ آخر بتاؤ تو سہی ہم سے کیا غلطی ہو گئی  تو سکھوں کے لیڈر نے ترنگ میں آکر کرپان لہرائی اور کہا
 " ہور چوپو گنے"

بس جی ہم بھی فیس بک پر ایک سٹیٹس کو لائک کر کے "گنے چوپنے" کا مزہ کیا لے بیٹھے کہ اب "سرداروں" سے ہماری چھترل ہو رہی ہے، اور یار لوگ ہمیں دیکھتے ہی کہتے ہیں "ہور چوپو گنے"
نوٹ:اس پوسٹ کو کسی خاص پسِ منظر میں ہرگزنہ لیاجائے،ایسا کرنے والا نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا
پنجابی سے اردو ترجمہ ہو چوپو (اور چوسو) ـــــــــــ گنے (گنڈیری)

1 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شکریہ

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers