منگل، 29 اپریل، 2014

بے حسی موت ہے بیدار زمانے کیلئے

4 comments


اس تصویر کی کاٹ کتنی گہری ہے ایک بوڑھی خاتون اپنے بچوں کے باپ کیلئے دربدر کی ٹھوکریں  کھا رہی ہے یہی نہیں بلکہ وہ گمشدہ افراد  کے لواحقین کیلئے ایک سہارا اور ان  کیلئے اٹھنے والی ایک توانا آواز بھی ہے۔ دکھوں اور تکالیف کی ماری اس کمزورخاتون کی آواز سے خوفزدہ حکمران یہ بات نہیں جانتے کہ مظلوم کی آہ اور رب کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا
آمنہ مسعود جنجوعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کبھی اس سے ملا نہیں، میں نے کبھی اس سے دیکھا نہیں، شاید ایک آدھ بار کبھی اس سے فون پر بات ہوئی  تھی، غیر قانونی طورپر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہو جانے والے افراد کیلئے، اپنا دکھ بھلائے دوسروں کیلئے انصاف کے حصول کیلئے کوشاں، گلی گلی ،شہر شہر ان کیلئے آواز بلند کرتی پھرتی ہے ، اسلام آباد کے مضبوط قلعوں میں بلند حکمران اس کمزور سی خاتون کی آواز اور جدوجہد سے اس قدر پریشان ہیں کہ اسلام آباد کی فضاؤں نے کل وہ منظر دیکھا کہ ہر دردِدل رکھنے والا شخص اپنے دل میں ایک چبھن محسوس کئے بغیر  نہ رہ سکا،آمنہ مسعود جنجوعہ  اور اس کے ساتھیوں پر تشدد کی انتہا کر دی گئی، لاٹھیوں اور مکوں  سے زدو کوب کرتے ہوئے انہیں سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا گیا ،تف ہے ایسے حکمرانوں اور ان کے چیلوں چانٹوں پر جو اپنے حقوق کیلئے اٹھنے والی ایک کمزور آواز بھی برداشت نہیں کر سکتے
ظلم وتشدّد اور اس کمزور خاتون کو اٹھا کر پولیس گاڑی میں ڈالنے کی تصویریں دیکھ کر مجھے تاریخ کے جھروکوں سے ایک حکمران یاد آرہا ہے، عین حالت جنگ میں جب ہر روز سینکڑوں شہ سوار موت کے گھاٹ اتر رہے تھے اور ہر لشکر اپنی فتح کیلئے دوسرے کو تہ تیغ کر دینے کیلئے کمر بستہ تھا۔ایک عیسائی عورت روتی پیٹتی ہوئی سلطان کی خدمت میں حاضر ہوتی ہے کہ جنگ زدہ ماحول اور دھول اڑاتے لشکروں کے درمیان اس کا لخت جگر کہیں کھو گیا ہے۔یہ بات بجا کی فریاد کرنے والی دشمن قوم سے تعلق رکھتی تھی لیکن وہ ایک ماں تھی اور یہ فرزند ہی اس کی کل متاع تھی۔
سبز آنکھوں والے سپہ سالار نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ اردگرد کی تمام آبادیوں کا احاطہ کرلیا جائے اور اس عورت کا بچہ تلاش کر کے لایا جائے۔
اور پھر ۔۔۔۔
ابھی ایک پہر بھی نہیں گزرا تھا کہ مغرب سے مسلمانوں کی سرزمین پر حملہ آور ہونے والوں میں شامل اس خاتون کا لخت جگر تلاش کر لیا گیا،وہ خوشی سے دیوانہ وار آگے بڑھی اور سلطان کے آگے سجدہ ریز ہو گئی۔
نہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلطان کی آواز فضاء میں گونجی  
یہ ایک فرض تھا جو ادا کر دیا گیا۔اب تم اپنے لوگوں میں واپس لوٹ جاؤ۔
وہ عظیم الشان حکمران جسے دنیا  "سلطان صلاح الدین ایوبیؒ " کے نام سے جانتی ہے یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ
"معاشرے امن وانصاف میں زندہ رہتے ہیں ،ناانصافی اور بدامنی انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے"

ہے کوئی ایسا شخص جو ہمارے حکمرانوں کو بھی یہ بات بتا دے۔
زندگی نام ہے احساس کی بیداری کا 
بے حسی موت ہے بیدار زمانے کیلئے

جمعہ، 25 اپریل، 2014

صدقہ جاریہ

11 comments
 مدینہ منوّرہ کی میونسپلٹی میں یہ باغ حضرت عثمان بن عفانؓ کے نام پررجسٹرڈ ہے یہی نہیں بلکہ مدینہ منوّرہ کےایک بنک میں حضرت عثمان بن عفانؓ کے نام پرباقاعدہ ایک کرنٹ بنک اکاؤنٹ بھی موجود ہے جس اکاؤنٹ میں اس باغ کی آمدن جمع ہوتی ہے اوریہ بات جان کربھی آپ حیران ہوں گےکہ حضرت عثمان بن عفانؓ کےنام پرآج بھی پانی اوربجلی کابل آتاہے۔آج ساڑھے چودہ سوسال کاعرصہ گزرنےکے بعد بھی حضرت عثمان بن عفانؓ کا نام مدینہ کی فضاؤں ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں روشن ہے
آئیے تاریخ کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ساڑھے چودہ سو سال پیچھے چلتے ہیں.مدینہ کی اس بستی میں پینے کا پانی نایاب ہے لے دے کےمحض ایک ہی میٹھےپانی کا کنواں ہےجوایک یہودی کی ملکیّت ہےجہاںوہ اپنی من مانی قیمت پر پانی فروخت کرتاہے،مسلمانوں کی اس تکلیف کی خبر نبی مہربان ﷺ تک پہنچتی ہے۔تو آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کون ہے جو اس کنویں کو خرید کر اللہ کیلئے وقف کردے جس کے بدلے میں اللہ تعالٰی اسےجنّت میں ایک چشمہ عطا کرے گا,یہ سنتے ہی حضرت عثمان بن عفانؓ اس یہودی کے پاس پہنچتے ہیں اوراس کنویں کو خریدنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں،کنواں چونکہ منافع بخش آمدن کا ذریعہ تھا اس لئے یہودی اسے فروخت کرنے سے انکار کردیتا ہے،اب جنابِ عثمانؓ ایک اور تدبیر کرتے ہیں کہ اچھا پورا کنواں نہ سہی تو آدھا ہی میرے ہاتھ فروخت کر دو،ایک دن کا پانی تمہارا ہو گا ایک دن کا میرا،یہ سن کے یہودی اپنی فطری لالچ کے ہوتھوں مجبور ہوجاتا ہےاورسوچتا ہےکہ شاید عثمانؓ اپنی رقم کو پوراکرنےاورزیادہ منافع کمانے کے لالچ میں پانی مہنگا فروخت کریں گے اور یوں میرے گاہکوں میں کوئی کمی نہ آئے گی اور اس طرح مزید منافع کمانے کا موقع میسّر آئے گا، آدھا کنواں حضرت عثمانؓ کےہاتھوں فروخت کردیا۔حضرت عثمانؓ نے اپنی باری کے دن مسلمانوں کیلئے مفت پانی کے حصول کا اعلان کردیا تولوگ انؓ کی باری کے روز اگلے دن کیلئے بھی پانی ذخیرہ کر لیتے اور یوں یہودی اپنی باری کے روز منہ دیکھتا رہ جاتا اور کوئی گاہک اس کے کنویں کا رخ نہ کرتابس اسی بناء پر کنویں کا باقی حصّہ بھی حضرت عثمانؓ کے ہاتھوں فروخت کردیااس دوران ایک آدمی نے آپؓ سے تین گنا منافع پر یہ کنواں خریدنا چاہا تو آپؓ نے فرمایامجھے اس سے کہیں زیادہ کی پیشکش ہے اس آدمی نے کہا میں چار گنا منافع دوں گاتو آپؓ نے فرمایا مجھے اس سے بھی زیادہ کی پیشکش ہے تو اس آدمی نے کہا آخر وہ کون ہے جو تمہیں اس سے زیادہ دے گا تو آپؓ نے فرمایا میرا رب جو مجھے ایک نیکی پر دس گنااجر دینے کی پیشکش کرتا ہے۔وقت تیز رفتاری سے اپنی منازل طے کرتا رہا اور مسلمان اس کنویں سے اپنی پیاس بجھاتے رہے سیّدنا عثمانؓ کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی رہیں،کنویں کے گراگرد کھجوروں کا ایک باغ بن گیا،مدینہ میں عثمانی سلطنت قائم ہوئی تو اس باغ کی باقاعدہ دیکھ بھال ہوئی اور یہ باغ پھلنے پھولنے لگا،بعد ازاں سعودی حکومت کے عہد میں اس باغ میں کھجوروں کے درختوں کی تعداد1550ہوگئی،مدینہ کی میونسپلٹی میں یہ باغ بعد ازاں حضرت عثمان بن عفانؓ کے نام پر رجسٹرڈ ہوا،سعودی وزارتِ زراعت یہاں کی کھجور مارکیٹ میں فروخت کرتی اور اس باغ کی آمدن کو حضرت عثمان بن عفانؓ کے نام پربنک میں جمع کرتی ہے اور اس کا ایک حصّہ غرباء اور مساکین میں تقسیم ہوتا ہے، اب اس اکاؤنٹ میں اتنی رقم جمع ہوگئی کہ مرکزی علاقہ میں ایک پلاٹ خرید لیا گیا جہاں "فندق عثمان بن عفانؓ" کے نام سے ایک ہوٹل کی تعمیرکا منصوبہ بنایا گیاجس کی سالانہ50ملین ریال آمدن متوقع تھی جس کا آدھا حصّہ غرباء اور مساکین میں تقسیم ہوتا لیکن حرم کی توسیع کے منصوبہ کے پیشِ نظر جہاں دیگر تعمیراتی کام روک دئے گئے ہیں وہیں اس ہوٹل کی تعمیر بھی روک دی گئی۔
بے شک سچ فرمایا اللہ رب العزت نے کہ
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالے نکلیں اور ہر بال میں سودانے ہوں، اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے، بڑھا دیتا ہے، وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی ہے۔(سورۃالبقرہ۔آیۃ 261)
اللہ تعالٰی حضرت عثمان بن عفانؓ کی قبر کو نور سے منوّر کر دے کہ ان کی قربانی کو اس اندازمیں برکت عطا کی گئی قیامت تک کیلئے ان کیلئے صدقہ جاریہ کا انتظام ہو گیا
برادرِبزرگ ابو احمد مدنی حاجی محمد اقبال مغل کی وساطت سےچند اشعار حضرت عثمان بن عفانؓ کی نذر
اللہ غنی حد نہیں انعام و عطا کی 

وہ فیض پہ دربار ہے عُثمان غنیکا
جو دل کو ضیاء دے جو مقدرکوجلاء دے

وہ جلوہ دیدار ہے عثمان غنی کا
جس آئینہ میں نوُر الہی نظر آئے

وہ آئینہ رُخسار ہے عُثمان غنی کا

ہفتہ، 19 اپریل، 2014

لکھ پتی بھکاری

4 comments
میں نے پانچ لاکھ روپے اکٹھے کرکے بابا کو دئیے کہ کہیں کوئی سر چھپانے کی جگہ کوئی گھر بنانے کا سامان کرولیکن بابا نے گھر بنانے کی بجائے اپنا گھر بسا لیا ............... شاہ صاحب اپنی بات کہ رہے تھے اور میں حیران ہوا جا رہا تھا
شاہ جی میرے پرانے مریض ہیں، بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ میں ان کا فیملی ڈاکٹر ہوں اوراب تو یہ رشتہ دوستی میں ڈھل چکا ہے،اگرچہ "پیر"ہیں لیکن پیروں جیسا مزاج نہیں رکھتے بہت "کھلے ڈلّے" آدمی ہیں۔آج سہ پہر جب وہ بیٹے کی میڈیسن لینے میرے پاس آئے بیٹھے تھے کہ اسی اثناء میں ایک مانگنے والا ہاتھ پھیلائے آپہنچامیں نے اس سے جان چھڑانے کےلئے اس کے پھیلے ہاتھ پر ریزگاری رکھ دی۔

 شاہ جی کہنے لگے ان لوگوں کو تو بالکل بھی کچھ دینا نہیں چاہئے، جب میں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے ایسے لوگ حقداروں کا حق مارتے ہیں۔ پھر خود ہی اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ سنایا کہتے ہیں ایک مانگنے والا اکثر میرے گھر کے باہر صدا لگایا کرتا تھا اور میں اسے کچھ نہ کچھ دے دیتا کہ غریب آدمی ہے دعا کرے گا ایک عرصہ بیت گیا اور اس سے میری دوستی ہو گئی ایک دن میں نے باتوں ہی باتوں میں میں نے اس سے سوال کیا کہ تم جوان آدمی ہو کوئی محنت مزدوری کرو اور جھگیوں میں رہنے کی بجائے کہیں اپنا گھر بناؤ اور عزت کی زندگی بسر کرو کہنے لگا شاہ جی میں نے پانچ لاکھ روپے اکٹھے کرکے بابا کو دئیے کہ کہیں کوئی سر چھپانے کی جگہ کوئی گھر بنانے کا سامان کرولیکن بابا نے گھر بنانے کی بجائے اپنا گھر بسا لیا اور پڑوس کے جھگی نشینوں کی لڑکی بھگا لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہٹّا کٹّا شخص ہاتھوں میں ڈنڈا اٹھائے کلینک میں داخل ہوا اور اپنا کشکول آگے بڑھا دیا، جوان آدمی ہو تم کوئی محنت مزدوری کیوں نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
صاحب کوئی کام نہیں ملتا اورکوئی بھی مجھے کام پر رکھتا ہی نہیں،
اگر کوئی کام ملے تو کرو گے
ملے گا تو کیوں نہیں کروں گا جی

اچھا ٹھیک ہے پھرکل آجاؤ،گاؤں میں ہماراایک رہٹ ہے بس وہاں پربیٹھ کر ڈیوٹی کرنی ہے کہ بیل چلتا رہے تاکہ کھیتوں کو مسلسل پانی کی فراہمی میں کوئی کمی نہ آنے پائے
کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی یہ کام تو مجھ سے نہ ہو سکے گا
اچھا توآئندہ یہاں نظر آئے ناں تو پھر تمہاری خیر نہیں
ایک طویل عرصہ بعد جب میں نے کلینک شفٹ کیا تو ابھی صبح صبح کلینک کھولا ہی تھا کہ جانی پہچانی آواز ابھری "اللہ پاک کرم کرے جی" ،،،،،،،،،،،،،،،
اوئے تو پھر آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا تے ڈاکٹر صاحب تسی اتھے آگئے او(اچھا تو ڈاکٹر صاحب آپ یہاں آگئے ہیں) 
اور پھر میں یہ سن کر تو حیران ہی رہ گیا کہ وہ اب دو ٹرکوں کا مالک ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


منگل، 1 اپریل، 2014

قائد ایسے ہوتے ہیں

7 comments
میں مسجد کی پہلی صف میں موجود تھا جب میں نے نماز پڑھتے ہوئے سادہ لباس میں ملبوس درویش صفت اس شخص کی جیب سے گرنے والے "ڈالر" کے اس "قلم" کو دیکھا جس کے ساتھ لکھنا ہم بھی معیوب سمجھتے ہیں کہ لکھا ہی جائے تو "پارکر" کے قلم سے،کہاں ایک صوبے کا سینئر وزیر اور اس کی سادگی کا یہ عالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ اسے سلامت رکھے 
سراج الحق یقیناً آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی قرونِ اولٰی کی یاد تازہ کئے ہوئےہیں
میں میٹرک کا طالب علم تھا جب اس سے پہلی بار میری ملاقات ہوئی، سرخ وسفید چہرہ "گلابی اردو" لیکن اسے دیکھتے ہی نوجوانوں کے والہانہ نعرے 
ہمّت والا،جرات والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناظمِ اعلٰی ناظم اعلٰی
اس سے ان کی محبت کا پتہ دے رہے تھے پھر بارہا اس سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہا، اور آج وہ جب خیبر پختونخواہ کا سینئر وزیر ہے اس کی سیاہ داڑھی سفید ہو کر بزرگوں کی صف میں داخل ہوجانے کا اعلان کر رہی ہے تو اس سے ملتے ہوئے ایک بار پھر وہی 23 سال پہلےکا منظر میری نگاہوں میں گھوم گیا،وہی23 سال پہلے والا سراج الحق
فرق تھا تو اتنا کہ اب اس کی اردو اتنی "گلابی" نہ تھی جتنی 23 برس پہلے تھی۔
اور وہ منظر تھا 23 برس پہلے کاجامعہ پنجاب کا یونیورسٹی گراؤنڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلامی جمعیّت طلبہ پاکستان کا اجتماعِ عام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اس اجتماع کا آخری روز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ارکان جمعیّت نے اپنے تنظیمی دستور کے مطابق اگلے پانچ برسوں کیلئے سراج الحق کو ناظمِ اعلٰی منتخب کیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنسوؤں میں بھیگا چہرہ، سسکیاں اور آہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذمّہ داری کا بوجھ نہ اٹھا سکنے کا خوف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنسوؤں سے بوجھل آواز میں کارکنان سے مخاطب ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ شخص کیا بات کرے جسے الٹی چھری سے ذبح کر دیا گیا ہو،اور پھر سراج الحق کی قیادت میں اسلامی جمعیّت طلبہ کا قافلہءِ سخت جاں اپنی منزل کی جانب بڑھتا چلا گیا

اور آج 23 برس بعد ایک بار پھر میرا ناظمِ اعلٰی جماعت اسلامی کی امارت کی بھاری ذمہ داری کا اہل ٹھہرا ہے، بتانے والے بتاتے ہیں کہ جب جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سیّد منوّر حسن نے اسے نئی ذمہ داریوں کی خبر دی تووہ ایک بار ھر زارو قظار رو دیا اور اس کے آنسوتھے کہ تھمنے کو نہیں آرہے تھے، اور بار بار یہ الفاظ دہرا رہا تھا کہ
"اتنی بڑی ذمہ داری کیسے اٹھاؤں گا"
اللہ تعالٰی سراج الحق کو استقامت دے کہ ایسے ہی درویش صفت قائدین کی قیادت میں ہی اسلامی تحریکیں اپنے منزل کی طرف گامزن اور انقلاب کی نوید بنا کرتی  ہیں

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers