جمعرات، 26 دسمبر، 2013

فیس بک اور ٹویٹر پراردو نستعلیق فانٹ میں

6 comments
فیس بک اور ٹویٹر پر اردو لکھتے اور پڑھتے ہوئے اس کا عجیب وغریب "تاہو" فانٹ میں نظر آتی ہے جو پڑھنے اور دیکھنے میں بالکل بھی بھلی نہیں لگتی اور بے اختیار جی چاہتا ہے کہ کاش یہ اس انداز میں نظر آئے جیسے ہم کتابوں میں لکھا ہوا دیکھتے ہیں تو قارئین اب یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا۔اردو کی شبانہ روز ترقی کیلئے کوشاں ہمارے محترم بھائی محمد بلال محمود نے اس مسئلے کو بہت خوبصورت انداز میں حل کر دیا جنہوں نے پہلے تو شائقین اردو کیلئے کمپیوٹر پر ہر جگہ اردو لکھنے اور پڑھنے کیلئے پاک اردو انسٹالر کے نام سے سافٹ وئر تیار کرکے ہم جیسے طالب علموں کیلئے گراں قدر خدمت سرانجام دی اور پھر فیس بک اور ٹویٹرکے استعمال کنندگان کیلئے اردو نستعلیق پلگ ان اور سکرپٹ کی تیاری کے ذریعے ایک عظیم کارنامہ سر انجام دیا ہے 
فیس بک اور ٹویٹر پر سب سے پہلے آپ کے کمپیوٹر پر پاک اردو انسٹالر انسٹال ہونا ضروری ہے جو آپ یہاں سے بآسانی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں،پاک اردو انسٹالر کے ذریعے نہ صرف آپ کے کمپیوٹر پر اردو بہتر انداز میں نظر آئے گی بلکہ آپ اس کی بدولت ہر جگہ آسانی سے اردو لکھ بھی سکیں گے۔اب ایک پلگ ان اور اس کا سکرپٹ انسٹال کرنا ہے سب سے پہلے اس لنک پر جائیں اور وہاں سے تصویر
 میں دئیے گئے طریقہ کار مطابق Stylish پلگ ان انسٹال کریں۔اس پر کلک کرنے کے بعد اپنے براؤزر کی سیٹنگ کے مطابق اسے Add یا Install کر لیں۔ انسٹالیشن مکمل کرنے کے بعد براؤزر کو بند کرکے دوبارہ چلائیں۔ اب دوبارہ اس لنک پر جائیں یہ پہلے والا ہی لنک ہے اگر پلگ ان کامیابی سے انسٹال ہو جائے تو پہلے جہاں Stylish کے انسٹال ہونے کا لنک تھا اب وہاں Install With Stylish ہو گا جس طرح اس تصویر میں نظر آرہا ہے،
 اس بٹن پر کلک کرنے اور اپنے براؤزر کی سیٹنگ کے مطابق Install یا Addکرنے کے بعد آپ فیس بک اور ٹویٹر پر اردو نستعلیق فانٹ میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں گے
بلاگ کی اس پوسٹ کا محرّک بننے والے احباب محمد بلال محمود،عمیر سعود قریشی، مظہر علی اور ہماری محترمہ بہن سکوتِ آگاہی کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے۔

سوموار، 16 دسمبر، 2013

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا ...

15 comments
ماہِ دسمبر شاعروں اور ادیبوں کے نزدیک ہمیشہ سے ہی اداسیوں کا استعارہ رہا ہو گا لیکن میں نے جب سے سنِ شعور میں قدم رکھا دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایک عجیب سے بے چینی اور بے سکونی طبیعت میں در آتی ہے،اور اس اداسی اور بے چینی کا تعلق اس ماہ کی 16 تاریخ کو تاریخ کے اس سیاہ ترین دن سے ہے جب مدینہ منورہ کے بعد اس صفحہء ہستی پر اسلام کے نام پر قائم ہونے والی دوسری مملکتِ خداداد کو دو لخت کر دیا گیا۔ قیام بنگلہ دیش کا سانحہ اگر چہ میری پیدائش سے بھی تین سال پہلے کا ہے  لیکن مجھے اس المیے اور دکھ کا احساس اپنی عمر کی پندرہ بہاریں دیکھنے کے بعد اس وقت ہوا جب میں نے سلیم منصور خالد کی کتاب"البدر"اور طارق اسماعیل ساگر کی کتاب "لہو کا سفر"کا مطالعہ کیا۔ 16 دسمبر 1971ء پاکستانی حکام اور عوام کا نظریہ پاکستان کی اسلامی اساس سے دوری اور غفلت کا تازیانہ ہے۔ سقوط ڈھاکہ نے‘ برصغیر پاک و ہند کی مذہبی، سیاسی ،سماجی ،عسکری اور معاشی زندگی میں نہ ختم ہونے والے اثرات مرتب کئے ہیں۔16 دسمبر کا افسوسناک دن ہماری تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب لکھ گیاجب سقوط ڈھاکہ کا المیہ پیش آیا.
 سقوط ڈھاکہ کے المیہ میں شیخ مجیب الرحمن، یحیٰی خان، بھٹو اور اندراگاندھی جیسے کرداروں کا جو عمل دخل تھا ان میں مجیب الرحمن اپنے اہل خانہ کے ساتھ قتل ہوگیا. اندراگاندھی کو اس کے سکھ محافظ نے گولی ماردی اور بھٹو کو محمد خان قصوری کے قتل کےالزام میں پھانسی دے دی گئی اور یوں اس دور کے حالات و واقعات کے کئی کردار اپنے انجام کو پہنچ گئے. آج جنرل نیازی اس دنیا میں ہے نہ یحیٰی خان لیکن جب بھی 16 دسمبر کا دن آتا ہے اس دور کے تمام کردار سامنے آجاتے ہیں اور پاکستانی قوم آج بھی اس دن کو یاد کر کے سوگوار ہوجاتی ہے.لیکن اب کی بار دسمبر ایک بار پھر اس انداز میں وارد ہوا ہے کہ ایک بار پھر بنگلہ دیش میں خون کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔نام نہاد "بنگلہ بندھو" شیخ مجیب الرحمٰن جسے اس کے اپنے ہی قریبی ساتھیوں نے بھارتی ایجنٹ ہونے کے الزام میں خاندان سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا تھا کی واحد بچ جانے والی صاحبزادی  بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد اپنے "بھارتی آقاؤں" کو خوش کرنے کیلئے ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جن کا تصوّر ہی ہولناک ہے۔ بنگلہ دیش میں دینی جماعتوں کے بڑھتی ہوئی مقبولیّت نے بھارت اور بھارتی نواز حکمرانوں کے ہوش اڑا دئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اس طرح کے گھناؤنے انتقام پراتر آئے ہیں اور"نورمبرگ"ٹائپ عدالتوں کے ذریعے سے متحدہ پاکستان کی حامی قوتوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا آغاز ہو چکا ہے جس کا پہلا نشانہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر عبدالقادر ملا بنے جنہیں 12 اور 13 دسمبر کی درمیانی شب پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔اس خبر نے بلاشبہ دردِدل رکھنے والے ہر پاکستانی اور تاریخ کے ہر ذی شعور طالب علم کو افسردہ کر دیا ہے۔آج بھی "مکتی باہنی" کی باقیات اس ایجنڈے پر مصروفِ عمل ہیں کہ بنگلہ دیش کو بھی بھوٹان کی طرح بھارت کی طفیلی ریاست بنانے کے درپے ہیں جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر ان افراد کے چہروں کو بے نقاب کیا جائے جنہوں نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا. ہم ابھی تک مختلف قومیتوں میں بٹ کر آپس میں اپنے اپنے مفاد کی خاطر دست بہ گریبان ہیں۔ہمارے حکمران ایک اور سقوط ڈھاکہ کے انتظار میں ہیں. ہم نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا. افغانستان میں بھارت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں،بلوچستان میں بیرونی مداخلت روز بروز بڑھتی جارہی ہے،روشنیوں کا شہر کراچی لہو رنگ ہے،قبائلی علاقوں کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مقتل گاہ بنا ڈالا ہے اور ہم ہر چیز سے نظریں چرائے کشکول ہاتھوں میں  لئے بھیک مانگنے نکل کھڑے ہوئے ہیں
کیا وه وقت نہیں آیا کہ پاکستان بنتے وقت اللہ سے کئے گئےوعدے کو پورا کیاجائے اور اسلامی اقدار کی جو دھجیاں اڑائی جارہی ہیں انکو روکنے کا کوئی سدباب کیا جائے اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام سیاسی بتون کو توڑ کر اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت میں آجائیں. اس کے علاوہ پاکستان کو مضبوط اور متحد رکھنے کا کوئی اور راستہ نہیں
لیکن ہماری کیفیّت یہ ہے کہ 
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا .................... لوگ ٹھہرے نہيں حادثہ دیکھ کر

جمعہ، 13 دسمبر، 2013

سلام تم پر افق کے اس پار جانے والو

3 comments

دسمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نے پھر دسمبر کی یاد تازہ کر دی ۔ ایک ایسی یاد جو ہمیشہ آنکھوں کو آنسوؤں سے بھر دیتی ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبّت  اور 1971 میں پاکستان کو دولخت ہونے سے بچانے کیلئے پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ " البدر" کے پلیٹ فارم سے اپنی جوانی نچھاور کر دینے والے عبدالقادر ملا کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔جنگی جرائم کے ٹرابیونل نے رواں سال فروری میں عبد القادر ملا کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نےسزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔  
 عبدالقادر ملا کی شہادت کی خبر سے آنکھوں سے بے اختیارآنسو رواں ہیں لیکن ان کے آخری خط کے الفاظ اور ان کے اہلِ خانہ کی ہمّت اور حوصلہ بلاشبہ دلوں کی ڈھارس بندھا رہا ہے  
کہ دل شکستہ نہ ہو اور غم نہ کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو( القرآن )
عبدالقادر ملا کے جیل سے آخری خط کے الفاظ ہیں
عبدالقادرملا
قیدی نمبر---379
سکنہ --کا ل کوٹھری
سنٹرل جیل --ڈھاکہ
مجھے نئے کپڑے فراہم کر دئے گئے ہیں، نہانے کا پانی بالٹی میں موجود ہے،سپاہی کا آرڈر ہے کہ جلد از جلد غسل کر لوں،کال کو ٹھری میں بہت زیا دہ آنا جانا لگا ہوا ہے،ہر سپاہی جھانک جھانک کر جارہا ہے، کچھ کے چہرے افسردہ اور کچھ چہروں پر خوشی نمایاں ہے، ان کا بار بار آنا جانا میری تلاوت میں خلل ڈ ا ل رہا ہے،میرے سامنے سید مودودی کی تفہیم القرآن موجود ہے، ترجمہ میرے سامنے ہے" غم نہ کرو ، افسردہ نہ ہو - تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو " سبحان الله کتنا اطمینان ہے ان کلمات میں ......! میری پوری زندگی کا حاصل مجھے ان آ یات میں مل گیا ہے، زندگی اور موت کے درمیان کتنی سانسیں ہیں یہ رب کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔مجھے اگر فکر ہے تو اپنی تحریک اور ارکنان کی ہے، الله سے دعا ہے کہ وہ ان سب پر اپنا فضل اور کرم قائم رکھے. آمین الله پاکستان کے مسلمانوں اور میرے بنگلہ دیش کے مسلما نوں پر آسانی فرمائے --- دشمنان اسلام کی سازشوں کو ناکام بنا دے(آمین)عشاء کی نما ز کی تیاری کرنی ہے ، پھر شاید وقت ملے نہ ملے؟ میری آپ سے گزارش ہے کہ ہم سب نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس پر ڈٹے رہیں، میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ راستہ سیدھا جنت کی طرف جاتا ہے.
آپ کا مسلمان بھائی ...

عبدالقادرملا

اور ایسے موقعوں پر جب زندگی کا ساتھی اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہو خاتونِ خانہ کیلئے کس قدر مشکل لمحہ ہوتا ہے ایسے موقع پر ان کی اہلیہ کی جانب سے آنے والے بیان نے قرونِ اولٰی کی مسلم خواتین کی یاد تازہ کر دی فرماتی ہیں 
"مجھے فخر ہے کہ میں کسی کافر کی بیوی نہیں، جماعت اسلامی کے ایک رکن کی بیوی ہوں اور رکن ہونے کی وجہ سے ان سے شادی کی تھی اور امید کرتی ہوں کہ وہ آخری وقت تک عہدِ رکنیّت نبھائیں گے،انہوں نے کہا کہ میں جماعت اسلامی کے کارکنان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ احتجاج مین اپنی جانین دینے کی بجائے اپنی صلاحیّتیں اس ملک میں اسلامی نظام کیلئے وقف کر دیں"
اگر ہم شہید ہوجائیں تو بھی ہم کامیاب ہیں اور اگر زندہ رہیں تو بھی جیت ہماری ہے۔ دونوں صورتوں میں ہم ہی فاتح ہیں
 اورآخری ملاقات کے بعد عبدالقادر ملا کے وکیل تاج الالسلام کا کہنا تھا
آج صبح مسٹر عبد القادر ملا کے ساتھ آخری ملاقات کے لیے جیل گئے تھے۔ سزائے موت سے قبل کسی فرد سے آخری " انٹرویو" میری زندگی میں پہلا واقعہ تھا۔ میں پوری طرح متوجہ اور مسحور تھا، اور ذہن میں یہ تھا کہ یہ شخص کل نہیں ہوگا۔ مگر ایک مسکراہٹ کے ساتھ اسلامی تحریک کے ایک سچے رہنما کی طرح انہوں نے اپنے قانونی معاملے پر گفتگو کی۔ اور کہا کہ جن جرائم کا ان پر الزام لگا کر ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا ہے، ان کے متعلق وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔میرے خلاف جعلی گواہ عدالت میں لائے گئے۔ اور من پسند فیصلہ کیا گیا۔ عبدالقادر ملا جو زمانہ طالب علمی میں سید مودودی اور سید قطب سے متاثر تھے۔ انھی کے راستے پر چل کر پھانسی کا سزاوار ہونا اور پھر صبر و ہمت اور استقامت کا مظاہرہ ایک نمونہ تھا۔ ان کا سر بلند تھا اور رہا۔ وہ مطمئن اور پر سکون تھے۔ عبدالقادر ملا آج مجھے ہمالیہ سے بلند محسوس ہوا۔
اللہ عبد القادر ملا کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کے لہو سے بنگلہ دیش کی احیائے اسلام کی تحریک کو توانائی عطا کرے. آمین...

اتوار، 1 دسمبر، 2013

جو دبا سکو تو صدا دبا دو

9 comments

مکہ کی گلیوں میں گرم کوئلوں پر لٹائے گئے خباب بن ارط کی ثابت قدمی کا حوالہ ہو یا پھرعین عالمِ دوپہر میںعرب کی تپتی ہوئی ریت پرلٹائے گئےسیدنا بلال حبشی کی" احد، احد " کی بلند ہوتی صدائیں، ابوجہل کے ظلم وستم کے سامنے ڈٹ جانے والی کمزور سی سیدہ سمیہ کی المناک داستان ہو یا آلِ یاسر کی پامردی کا تذکرہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں حق وباطل کی کشمکش ازل سے جاری ہے اور تا ابد جاری رہے گی۔
یہ کیسے لوگ ہیں جنہیں نہ کسی جابر کاجبر جھکنے پہ مجبور کر سکا نہ کسی ظالم کے ظلم سے ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش آئی۔ یہ نبی اکرمﷺ کے ان جان نثاروں کے پیرو ہیں کہ حق بات پر کٹ جانا جن کا شیوہ رہا ہے اور اس حال میں کہ نیزہ گردن کو چھو رہا ہو اور سوال کرنے والا سوال کرے کہ اے فلاں کیا تم یہ بات پسند کرو گے کہ آج تمہیں رہا کر دیا جائےاور تمہاری جگہ نعوذ باللہ تمہارے نبیﷺ کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جائے تو جواب دینے والے نے کہا تھا کہ واللہ تم نے تو بڑی بات کہ دی میں تو یہ بھی پسند نہیں کروں گا کہ آج مجھے رہا کردیا جائے اور اس کے بدلے میں میرے نبی مہرباں ﷺ کے پاؤں میں کوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔ اور خدا کی قسم یہ تو وہ لوگ ہیں کہ جب نیزہ جسم کے آر پار ہو تو پکار پکار کر کہتے ہیں " ربّ کعبہ کی قسم میں تو کامیاب ہو گیا
مصر کے دوسرے بڑے شہر الاسکندریہ کی عدالت کی جانب سے 14 اسلام پسند لڑکیوں کو 11 ، 11 سال قید کی سنائی جانے والی سزا اور اس موقع پر انٹر نیٹ کے ذریعے میڈیا پر شائع شدہ ان کی تصویر میں ان ہنستے مسکراتے چہروں نے قرونِ اولٰی کی مسلم خواتین کی یاد تازہ کر دی ہے، ان کمسن بچیوں پر الزام عائید کیا گیا ہے کہ یہ لڑکیاں 31 اکتوبر کو سڑکوں پر مظاہرے کی ترغیب دینے اور دوران مظاہرہ مرسی کے لبرل و سیکولر م پر پتھر پھینکنے اور چاقو چلانے میں ملوث ہیں۔ لیکن حقیقت میں لبرل و سیکولر غنڈے فوج کی مدد سے اسلام پسندوں کے پر امن مظاہروں پر حملہ آور ہونے اور خون کا بازار گرم کرنے میں ملوث ہیں 
اسی مقدمہ میں الاخوان المسلمون کے 6 دیگر مرد رہنماؤں کو بھی 15 ، 15 سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ سزا پانے والوں کے پر عزم اور شادماں چہرے وقت کے فرعونوں سے پکار پکار کر کہ رہے ہیں
جو دبا سکو تو صدا دبادو
جو بجھا سکو تو دیا بجھا دو
صدا دبے گی تو حشر ہو گا 
دیا بجھے گا تو سحر ہو گی

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers