بدھ، 14 اگست، 2013

لہلہاتی رہے یہ دھرتی

2 comments

لفٹی چاچاہمارے شہر میں کب آیامجھے یہ تو معلوم نہ ہو سکا لیکن ا س کے ہاتھوں کے بنے دہی بڑھے بچوں اور بڑوں کی مرغوب غذا تھی۔سکول کے راستے میں بنی ا س کی دکان ہمیشہ ہمارے قدموں کی زنجیر بن جاتی اور بڑی بے چینی سے ہم بریک ٹائم کا انتظار کرتے کہ کب ہم لفٹی چاچاکے ہاتھوں کے بنے چٹ پٹے دہی بڑھے کھانے جا پہنچیں۔لفٹی چاچایوں تو بڑا ہنس مکھ بندہ تھا، من کا سچا ،سبھی سے پیار کرنے والا۔لیکن جانے اسے کبھی کبھار کیا دورہ پڑ جاتاکہ جلدی کا شور مچانے والے بچوں پر برہم ہو جاتا۔اور اس دن تو حد ہی ہو گئی جب اس کی دکان کے باہر لگی رنگ برنگی جھنڈیوں کے بیچوں بیچ لہراتی پاکستانی جھنڈے کے رنگوں پر مشتمل جھنڈیوں کو بچوں نے توڑ کر ساتھ لے جانے کی کوشش کی تو اس نے ایک بچے کویہ کہتے ہوئے تھپڑ دے مارا کہ تم میرے وجود کے ٹکڑے کر رہے ہو۔اس وقت تو اس کی وجود والی بات میری سمجھ میں نہ آسکی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب عمر کی منزلیں طے کرتے ہوئے جب میں نے سکول سے کالج اور پھر عملی زندگی میں قدم رکھا تو ایک دن ماضی کو یاد کرتے ہوئے میں لفٹی چاچا کی دکان پر جا بیٹھا۔چاچے نے بہت محبت سے دہی بڑھے کھلائے اور گاہکوں کو نمٹانے کے ساتھ ساتھ میرے ساتھ گپ شپ بھی لگاتا رہا۔میں نے موقع دیکھتے ہوئے لفٹی چاچا سے اس بچے کو تھپڑ مارے کا قصّہ چھیڑ دیا تو یکدم لفٹی چاچا کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگا بیٹا اس لڑکے نے پاکستانی پرچم کو کھینچا تو مجھے ایسے لگا کہ اس نے میرے جسم سے میرے روح کو کھینچ لیا اور غصّے میں آکر میں نے اسے تھپڑ دے مارا۔کاش تم لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ پاکستان ہم نے کتنی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا۔اس دھرتی کیلئے تو میرا س کچھ چھن گیا  میرا پاکستان جس کی چھاتی پر رواں دواں دریا اس کے بیٹوں کے خون سے سرخ کر دئے گئے۔ اس کی آغوش سے پھوٹتی رحمتوں میں اس وطن کی بیٹیوں کی تار تار عصمتوں کی خوشبو رچی بسی ہے' اس کے آنگن میں رقص کرتی ندیاں' اس کے پہاڑوں میں اچھلتے کودتے چشمے' اس کے میدانوں میں شاداں و فرہاں پری رو درخت' زیبا بدن سبزے' نورنگ پھول' پھیلتی سمٹتی روشنیاں' رشک مرجاں شبنمی قطرے' لہلہاتی فصلیں' مسکراتے چمن' جہاں تاب بہاریں اور گل پرور موسم اپنے پیچھے قربانیوں کی ایک لازوال داستان لئے ہوئے ہیں۔ بیٹا یہ میرا ملک صرف ایک ملک ہی نہیں بلکہ یہ میری تقدیر بھی ہے۔ یہ میری داستان بھی ہے' یہ میرا ارماں بھی ہے۔ میرے وجود کی مٹی میں وہ دلکشی نہیں جو جاذب نظر اور دلفریبی اس کی خاک میں ہے۔ یہ پھولوں کی دھرتی اور یہ خوشبوؤں کا مسکن ہی اب میرا سب کچھ ہے یہی میرا گھر بار یہی میرا خاندان اور یہی میری داستاں ہے۔ اس کے سینے سے اٹھنے والے مسائل کے ہوکے میرے دل میں چھبنے والی سوئیاں ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی طرف کوئی ٹیڑھی نظر سے دیکھے تو گویا وہ آنکھ نہیں' میرے جسم میں پیوست ہونے والا تیر ہوتا ہے۔ یہ تو وہ دھرتی ہےکہ جس کیلئے میں نے سب کچھ قربان کر دیا۔ اورصرف تن تنہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے پیچھے لاشوں،اور زخموں کی ایک داستان چھوڑ کے پاکستان چلا آیا۔
چاچا پاکستان کے قیام اپنے گھر بار کے لٹنے، اپنے والدین اور بھائیوں کی شہادت اور بہنوں کی لٹتی عزت کی کہانی سناتا رہا اس کی آنکھیں ساون کی طرح برستی رہیں۔ پاکستان کی بنیادوں میں جس کی بہنوں کی تار تار عصمتیں اور جس کے والدین اور بھائیوں کا لہو ہو اس سبز ہلالی پرچم کو کیسے سرنگوں ہونے دے سکتا ہے۔

2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شکریہ

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers