ہفتہ، 6 جولائی، 2013

جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر

3 comments

مصر میں ایک منتخب حکومت کا تختہء الٹ کر اس کے خلاف فوجی بغاوت پر دنیا میں جمہوریت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اسلام کے نام لیواؤں کی حکومت کسی صورت پسند نہیں خواہ وہ جمہوری عمل کے ذریعے ہی عمل میں کیوں نہ آئی ہو۔ یہ جمہوریت کے دعویدار صرف لادین حکومتوں کے محافظ ہیں خواہ وہ کوئی آمر ہی کیوں نہ ہو۔ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی طرف سے مصر کے فوجی آمروں کو مبارکباد اور انہیں خوش آمدید کہنے کے پیغامات بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالم اسلام کی تمناؤں اور آرزوؤں کے مرکز پر متمکن حکمران بھی خواب غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہیں۔ اور مسلمانوں کے قبلہ وکعبہ کے خادمین کا قبلہ "کہیں اور" ہے۔
مصر میں دنیا کی سب سے زیادہ منظم اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے قائداور امام حسن البناء کے جانشین محمد بدیع لاکھوں کےمجمعے سے مخاطب تھے تو میں سوچ رہا تھا کی کیا گولیوں کی بوچھاڑ، آنسو گیس کی شیلنگ،اور ساتھیوں کی شہادتیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان  کے حوصلے پست کر سکتی ہیں کہ جنہوں نے اس ملک مین بدترین آمریت کےکئی سال اپنی جوانیاں جیلوں کی نظر کر دیں۔
مصری فوج کو یقین تھا کہ محمد بدیع کبھی منظر عام پر نہیں آئیں گے اس لئے اس نے مرشد عام کی گرفتاری کی افواہ پھیلا کر کارکنوں کے حوصلے پست کرنے کی ایک ناکام کوشش کی لیکن کل شام محمد بدیع کی منظر عام پر آمد اور آمروں کے خلاف للکار نے فوج پرہیبت طاری کر دی ہے۔انہوں نے مظاہرین کے جس اجتماع سے خطاب کیا ہے اس اجتماع کی مثال حسنی مبارک کے خلاف تحریک میں بھی نہیں ملتی۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مرشد عام اخوان المسلمون کا کہنا تھا 
اے عظیم مصر کے نوجوانو۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں تم پر فخر ہے۔۔۔۔۔۔ہمیں ان پر بھی فخر ہےجو شہید ہو گئے۔۔۔۔۔کل تک وہ آپ کے درمیان تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔آج وہ ایک عظیم مقصد کیلئےہو گئے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں فخر ہے ان پر جو جیلوں میں ڈال دئے گئے اور جو عدالتوں میں گھسیٹے جا رہے ہیں لیکن سن لو کہ یہ سب کچھ رائیگاں نہیں جائے گا۔۔۔۔۔۔ ہم بھاگے نہیں ہم گرفتار نہیں ہوئےکیونکہ ہم چور اچکے اور دہشت گرد نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم ایک عظیم انقلاب کیلئے میدان میں نکلے ہیں ہم اس وقت تک لاشیں اٹھانے سےنہیں گھبرائیں گے جب تک مصر کے فرعونوں کو گھر نہیں بھیج دیتے۔ہم کسی بھی صورت شہداء کے خون سے سینچے گئے انقلاب کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ہم پر امن جدوجہد کے حامی ہیں اور پرامن جدوجہد سےمصر کو حقیقی انقلاب کی طرف لائیں گےتم ہمیں ٹینکوں سے ڈراتے ہو تو سن لو کہ ہمیں موت سےڈرانا ممکن نہیں
ہم نہ تو عبوری حکومت کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی نئے الیکشن کو ، مرسی آج بھی مصر کے صدر ہیں ، ان کی واپسی تک کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے ۔ 
اب منظر کچھ یوں لگ رہا ہے کہ تحریر سکوائرمیں میدان ایک بار پھرسجنے کو ہے لیکن یقینی طور پر اب کی بار اس میدان میں لادین اور سوشلسٹ نہیں بلکہ اللہ کے دین کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے اخوان اپنی محفل سجائیں گے۔ یہ تحریک کب اور کیسے اپنی منزل تک پہنچتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات طے ہے کہ
بالآخر اللہ کا کلمہ ہی بلند ہو کر رہے گا

3 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شکریہ

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers