منگل، 30 جولائی، 2013

ایک خط یہ بھی ہے

5 comments

"گاما خان" نام تھا ان کا،نام یہی تھا یا شاید عرف العام ہو گیا بہر حال میں نے ان کے شناختی کارڈ پر بھی یہی نام لکھا دیکھا۔ اس دورمیں شاید ایسے نام رکھنے کا رواج ہوتا ہو گا دبنگ قسم کا بندہ تھابے باک اور دلیر۔ ابھی نو عمری کی دہلیز پار کی ہی ہو گی کہ انگریز سرکار نے اسے کسی "جرم" کی پاداش میں سزا سنا ڈالی۔ سزا کا خوف تھا یا اس کی دیدہ دلیری معاملہ جو کچھ بھی رہا ہوایک دن "گا ما خان" جیل کے روشن دان کو توڑ کر فرار ہو گیاانگریز حیران تھا کہ یہ نو عمر لڑکا کیسے جیل سے فرار ہو گیا۔اب گا ما خان کی بدقسمتی کہئے کہ جلد ہی دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔انگریز جج کے سامنے پیش ہوا تو اس نے سوال کیا کہ تم جیل سے کیسے فرار ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوابًا گاما خان نے کہا کہ اگراسےرہا کردیا جائے تو وہ جیل سے فرار کا معاملہ بتا دے گا ۔ انگریز سرکار کے وعدے پر "گا ما خان" نے فرار کا راستہ بتا دیا جیل کا روشن دان بند کردیاگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورگاما خان کو جیل میں ڈالنے کی بجائے ملک بدر کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ملکوں ملکوں گھومتا لبنان جا پہنچا ۔وہیں شادی کی بچے ہوئے زندگی کی گزر بسر کا سامان کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔اس کے والدین اس کی راہ تکتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔لیکن گاما خان ایسا گیا کہ پھر کبھی واپس نہ لوٹا۔گھر والوں کو صرف اتنا معلوم تھا کہ وہ لبنان میں ہے۔
لبنان جانے والی تبلیغی جماعت میں ہمارے شہر کے ایک آدمی کے ذریعے ان سے رابطہ ہوا اور خط وکتابت شروع ہو گئی اور پھر ایک دن صبح میں سو کر اٹھاتو دیکھا کہ گھر کے مہمان خانے میں ایک "سوٹڈ بوٹڈ" شخص آیا بیٹھا ہے۔ معلوم ہوا یہ گاما خان ہیں۔ایک ماہ سے زائد عرصہ پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس لوٹ گئے اور پھر کچھ ہی عرصہ بعد داعئی اجل کو لبیک کہ دیا۔
ان کے ایک بیٹے احمد خان طویل عرصہ خط و کتابت کے ذریعے ہم سے رابطے میں رہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ رابطہ کمزور پڑتے پڑتے ختم ہو گیا۔ کل سہ پہر کلینک کے ایک دراز کی صفائی کرتے ہوئے احمد خان کا ایک خط نظر سے گزرا خوبصورت عربی میں لکھا ہوا خط ۔۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ میں ایک دوسرے کاغذ پر اس کا اردو ترجمہ۔
اس خط نے مجھے ایک نئی سوچ عطا کردی ۔۔۔۔۔۔ میرے رب نے بھی اپنے بندوں کے نام ایک خط لکھا ہے اور وہ خط بھی عربی میں ہی ہے مفسرین حضرات نے اس کی خوبصورت تفاسیر لکھ کر ہم پر اسے سمجھنا آسان کر دیا۔
ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے آسان کر دیا تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا

5 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شکریہ

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers