جمعہ، 19 جولائی، 2013

قیمتی متاع

2 comments


 کبھی میں سوچتا ہوں کہ د نیا میں انسان کی سب سے قیمتی متاع کیا ہے۔ وہ ہستی کہ جس کی دعا ؤں سے ہر مشکل آسان لگے۔۔۔ کہ جس کی آغوش میں آ کر انسان اپنے تمام دکھوں، پریشانیوں اور آہوں کو بھلا دے اور ایسی راحت محسوس کرے کہ اس جیسی راحت کہیں اور نہ ملے، اور جو ہستی اس کیلئے تمام تر صعوبتوں کو بخوشی جھیل لے۔سوچتے سوچتے جب کوئی جواب نہ بن پائے تو دل کے نہاں خانے سے ایک صدا آتی ہے کہ وہ ہستی تو ماں ہے جو اپنی اولاد کے لیئے ٹھنڈی چھاؤں کا درجہ رکھتی ہے۔ اور اس ہستی کے بارے میں کچھ پڑھتے، لکھتے یا سنتے ہوئے آنکھیں ہمیشہ نم ہو جاتی ہیں۔انورمسعود کی زبان سے ماں کے حوالے سے ان کی مشہور نظم "امبڑی" سنتے ہوئے تو میں دیر تک بیٹھا روتا رہا۔
 اورجب میں نے کسی کتاب میں پڑھا کہ والدہ کی وفات کے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں ٹھوکر لگی تو غیب سے آواز آئی ”اے موسیٰ! سنبھل کر چل اب تیرے پیچھے دعا کرنے والی تیری ماں موجود نہیں ہے"۔ تو میں دیر تک گم سم رہا کہ وہ تو وقت کے پیغمبر تھے اور میں آج کے دور کا ایک بھولا بھٹکا انسان کہ جو شاید دعاؤں کے سہارے ہی چل رہا ہے ا س کے پیچھے دعاؤں میں اسے یاد رکھنے والی ہستی تو ایک عرصہ ہوا اس دنیا سے رخصت ہو چلی۔اور پھر تصور ہی تصور میں آج سے 30 برس قبل کا وہ منظر نگاہوں میں گھوم گیا جو کل کی طرح آج بھی تازہ ہے۔
جون کی گرمی کی وہ تپتی ہوئی دوپہر اور رمضان کی 9 تاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں پانی کی بالٹی میں چلتی پوئی" سٹیم بوٹ " سے کھیلنے میں مصروف تھا کہ صحن میں جھاڑو لگاتی ہوئی وہ چکر کھا کر گرگئیں۔اور پھر چند ہی لمحوں میں "الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا"کے مصداق وہ مہربان ہستی ہم سے بہت دور جا چکی تھی۔۔۔۔آج بھی لوگ ان کی مہمان نوازی ،قربانی ،ایثار اورصبرو رضا کی مثالیں دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ آج پھر نواں روزہ ہے موسم میں گرمی کی شدّت تو نہیں لیکن آنکھیں گرم گرم آنسوﺅں سے لبریز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزرے ہوئے تیس برس ہر لمحہ ان کی یادوں اور دعاؤں کی کمی بے چین کئے رہی تکلیف،دکھ اور پریشانی سے زیادہ خوشی،مسرت اورآسائش کے لمحات نے ان کی کمی کو زیادہ محسوس کروایا۔۔آپ سبھی دوستوں سے درخواست ہے جب افظاری کے وقت دعاکیلئے ہاتھوں کو اٹھائیں تو میری امّی جان کو بھی یاد رکھئے۔ آپ کا مشکور ہوں گا۔


2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شکریہ

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers