سوموار، 15 جولائی، 2013

یہ جدوجہد تو کسی طور رکنے والی نہیں

2 comments

زندگی کے بعض دکھ اس قدر گھمبیر ہوتے ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتے ۔ان کی کسک زندگی کے ساتھ قائم رہتی ہے۔پاکستان کے دو لخت ہونے کا دکھ ہر درد دل رکھنے والے پاکستانی کیلئے ایک بہت بڑا المیہ تھا۔لیکن مجھے اس المیے اور دکھ کا احساس اپنی عمر کی پندرہ بہاریں دیکھنے کے بعد اس وقت ہوا جب میں نے سلیم منصور خالد کی کتاب"البدر"اور طارق اسماعیل ساگر کی کتاب "لہو کا سفر"کا مطالعہ کیا۔قیام بنگلہ دیش کا سانحہ اگر چہ میری پیدائش سے بھی تین سال پہلے کا ہے لیکن یہ دونوں کتابیں پڑھنے کے دوران میں تصوّرمیں اپنے آپ کو ڈھاکہ اور چٹا گانگ کی گلیوں اور بازاروں میں کمسن لیکن پر عزم البدر اور الشمس کے مجاہدین کے شانہ بشانہ پاکستان کی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے دیکھتا رہا۔اورپھر پاکستان کے دولخت ہونے کا یہ دکھ میری زندگی کا ایک مستقل روگ بن گیا۔جو کبھی بھولے سے بھی بھلایا نہ جاسکا۔شاید یہی وجہ ہے کہ میں جب کبھی پاکستان کی محبت سے سرشاراپنے بنگالی بھائیوں کو دیکھتا تو ان کے احترام میں میرا سر ہمیشہ جھک جاتا۔کس قدر عظیم ہیں وہ لوگ کہ جنہوں نےا اپنے گھر بار اور بچے قربان کر دیئے لیکن پاکستان سے محبت کے جذبوں پر آنچ نہ آنے دی ۔ کہ جنہیں نہ کبھی پاکستان نے تسلیم کیا نہ کبھی بنگلہ دیش نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو بنگلہ دیش میں بستے ہوئیے بھی پاکستان سے محبت کا دم بھرتے رہے۔اور اپنے ہی وطن اپنے ہی دیس اپنی جنم بھومی بنگلہ دیش میں جنگی مجرم قرار پائے
90 سالہ بوڑھے پروفیسر غلام اعظم کو 90سال قید کی سزا سنائے جانے کی خبر سن کر پاکستان کے دولخت ہونے کا دکھ ایک بار پھر تازہ ہو گیا۔پروفیسر غلام اعظم کو40سال قبل کے واقعات کے حوالے سے ”انسانیت کے خلاف جرم کے ارتکاب“ کے نام نہاد الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ 90 سالہ بوڑھے پروفیسر غلام اعظم نہ ٹھیک سے چل سکتے ہیں، نہ صاف دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی صاف سن سکتے ہیں۔ اس کے باوجودمسلح پولیس اہلکار24 گھنٹے ان کی نگرانی پر متعین ہیں۔آج سہ پہر پاکستان سے محبت کے اس مجرم کو 90سال سزائے قید سنا دی گئی۔یہاں یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ گزشتہ 40سال میں، پروفیسر غلام اعظم اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی موجودہ قیادت کے خلاف کسی قسم کا کوئی فوجداری کیس، نہ حکومت کی طرف سے اور نہ ہی کسی شہری کی طرف سے دائر کیا گیا۔ بنگلہ دیش کے کسی بھی تھانہ میں کوئی ایف آئی آر تک درج نہ ہوئی۔ ان 40 برسوں کے دوران عوامی لیگ دو بار حکومت میں آئی، لیکن جماعت کی قیادت کے خلاف اس طرح کا کوئی سنگین الزام ان ادوار میں بھی نہیں لگایا گیا۔ مگر2009 میں جب یہ تیسری بار اقتدار میں آئی ہے تو جماعت کی قیادت پر ”انسانیت کے خلاف جرائم“ جیسے سنگین مقدمات بنانا شروع کردیے ہیں۔ آخرایسا کیوں کیا جا رہا ہے ؟ اپنے ایک انٹرویو میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر غلام اعظم کہتے ہیں کہ ایسا سیاسی انتقام کی خاطرہو رہا ہے۔ حکومت، جماعت کو بے دست و پا کرکے، اپنے خلاف سیاسی اتحاد کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ تادیر اقتدار میں رہ سکے۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی جنگی جرائم سے متعلق عدالت کا یہ پانچواں فیصلہ ہے جو اس نے جماعتِ اسلامی کے موجودہ اور سابقہ رہنماؤں کے خلاف دیا ہے۔
پروفیسر صاحب نے ایک بار ہفت روزہ "ایشیا" کو ایک انٹریو دیتے ہوئے یہ بات بتائی تھے کہ وہ سیاست میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنے دینی شوق اور پیاس کی خاطر تبلیغی جماعت سے بھی وابستہ تھے۔ اس وقت بھی تن دہی سے اللہ کے دین کی دعوت دیا کرتے تھےاور لوگوں کی درست رہنمائی کیا کرتے تھے۔ پھرایک بار ایسا ہوا کہ جماعت اسلامی کے کسی پروگرام میں شرکت کا موقع ملا اور ایک مقرر نے دوران تقریر یہ بات کہی کہ  یہ نماز روزہ اور زکوٰةاور حج تو کسی بڑے مقصد کی طرف تیاری کا وسیلہ ہیں۔ یقینا اللہ کو نمازیں پڑھوانا مقصود نہ تھا۔ نماز کے اندر جو اقامت دین کی تعلیم ہے اس کا نفاذ مقصد تھا۔پروفیسر صاحب کا فرمانا تھا کہ مقرر کی یہ بات سن کر میں ساری رات اس بات پر سوچ وبچار میں رہا کہ دین کا کام جو میں کر رہا ہوں کیاوہ اقامت دین کا کام ہے اور پھر مولانا مودودی کی تحریروں تک رسائی ہوئی توان تحریروں نے ان کے دل  کی دنیا ہی بدل دی۔ انھوں نے کہا کہ بس وہ جت گئے اور ہر طرح سے اللہ سے پھرے ہوئے نظام کو پلٹنے کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اس کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہندووانہ تہذیب اور معاشرت ہے ، جو اس وقت کے مشرقی پاکستان کے اندر سرایت کر رہی تھی۔ انھوں نے ہندوستا نی تہذیب و تمدّن کی مخالفت اوربھارتی تسلط کی مخالفت کی۔ اس کے لئے نوجوانوں کو منظم کیا۔ عبد المالک شہید ، ڈاکٹر مصطفی شوکت عمران شہید اور شاہ جمال چوھدری شہید ان ہی کے لگائے ہوئے پودے تھے۔ یہ بھارت کو کیسے ٹھنڈے پیٹوںبرداشت ہوپاتا۔ بس اسی لئے ان کو نشان عبرت بنانے کا تہیہ کیا گیا۔ آج اس کا ڈراپ سین ہے۔۔
 لیکن یہ جدوجہد تو کسی طور رکنے والی نہیں
مٹّی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

2 comments:

  • 16 جولائی، 2013 9:27 AM
    Faisal Shehzad :

    کوئی شک نہیں اسلام کی سربلندی کی جہدو جہد میں بے شمار تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اللہ تعالیٰ اہل حق کو سرفراز فرمائے اور ان کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے آمین۔
    یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جاناں
    وہ یہیں سے لوٹ جائیں جنہیں زندگی ہو پیاری
    اللہ آپ کے قلم کو ایسی تحریر یں لکھنےکے لیے مزید قوت عطا فرمائیں۔

  • 18 جولائی، 2013 8:41 PM
    Zahid Kaka :


    مٹّی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شکریہ

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers