جمعرات، 11 جولائی، 2013

استقامت وعزیمت کی روشن مثالیں

12 comments

میرے پاس تاریخ کے جھروکوں سے ایک تصویر ہے آیئے میں آپ کو وہ تصویر دکھاتا ہوں
یہ 12فروری1949کا دن ہے ۔ مصر کے بادشاہ فاروق کے حکم پر اخوان المسلمون کے بانی مرشد عام امام حسن البنا شہید کو رات کی تاریکی میں دھوکے سے مذاکرات کے بہانے بلا کر اندھا دھند فائرنگ کرکے شہیدکر دیا گیا ..اناللہ واناالیہ راجعون
اور میں چشم تصور سے دیکھ رہا ہوں اب نماز جنازہ کا وقت ہو چلا ہے ۔تمام کارکنان پابند سلاسل ہیں عام افراد پر بھی گھروں سے نکلنے پر پابندی ہے.....کسی کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ہے .....
شہید کے والد کا کہنا ہے"گھر میں کوئی مرد نہیں کچھ افراد کو بھیجو جنازہ اٹھا کرگاڑی میں رکھ دیں".....
سرکاری جواب ملتا ہے "مرد نہیں ہے تو عورتیں جنازہ اٹھا ئیں"..
ان کی اہلیہ,ان کی بہن،18سالہ بیٹی اور 90 برس سے متجاوز والد جنازہ اٹھاتے ہیں۔
اور پھر
شہید باپ کی روح کو مخاطب کرکے بیٹی نے کہا..............
"باباجان آپ کے جنازے کے ساتھ لوگوں کا ہجوم نہیں ہے۔زمین والوں کو روک دیا گیا ہے مگر آسمان والوں کوکون روک سکتا ہے"
جامع مسجد قیسوم.... بندوقوں کے سائے میں جنازہ پڑھا گیا پھر امام شافعی کے قبرستان میں تدفین...سلسلہ چلتا رہا اور قافلہ بھی اور پھر .... 24 جون 2012ء کی روشنی.......جب حسن ا لبنا شہید کی اخوان مصر میں حکمران بنی ۔۔۔۔۔۔۔۔
منظر بدلتا ہے اور ایک اور تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے
3جولائی 2013مصر میں اخوان کی منتخب حکومت فوجی طالع آزماؤں کے ہاتھوں اختتام کو پہنچتی ہے۔ مصری صدر محمد مرسی سمیت ہزاروں کارکنان ایک بار پھر پابندِ سلاسل کر دئیے جاتے ہیں۔ایسے میں صدر مرسی کا بیٹااسامہ مرسی اپنے باپ سے مخاطب ہے۔
"ابا جان اگر آپ تک میرا پیغام پہنچ رہا ہے تو سنیں " کہ آپ کی پوری فیملی میدان رابعہ العدویہ میںاپنے ہم وطنوں کے ساتھ موجود ہے۔آپ اپنے نظریات کے ساتھ ثابت قدم رہیں،غاصبوں اور ظالموں کے سامنے ہر گز نہ جھکیںخواہ حق کی خاطر آپ کو موت ہی کو کیوں نہ گلے لگا نا پڑے۔اور اگر آپ راہِ خدا میں کام آگئے تو ہم رب کے حضور سجدہِ شکر ادا کریں گے۔اسامہ مرسی کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے ان سے اپنی آخری گفتگو میں کہا تھا کہ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کردیا جاؤں تو آپ لو گ رنج وملال کی بجائے صبر وبرداشت سے کام لینا۔
حق کی راہ پر چلنا پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بستر ہے ۔کس قدر مشترک ہیں یہ دونوں پیغامات۔ایک شہید قائد کی بیٹی کا اپنے باپ کیلئے اور دوسرا ،ایک پابند سلاسل قائدکے بیٹے کا اپنے والد کے نام
اپنے کارکنان کے اس قدر خوبصورت تربیّت کرنے والی تحریکیں کیا ناکامی سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

12 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شکریہ

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers