منگل، 30 جولائی، 2013

ایک خط یہ بھی ہے

5 comments

"گاما خان" نام تھا ان کا،نام یہی تھا یا شاید عرف العام ہو گیا بہر حال میں نے ان کے شناختی کارڈ پر بھی یہی نام لکھا دیکھا۔ اس دورمیں شاید ایسے نام رکھنے کا رواج ہوتا ہو گا دبنگ قسم کا بندہ تھابے باک اور دلیر۔ ابھی نو عمری کی دہلیز پار کی ہی ہو گی کہ انگریز سرکار نے اسے کسی "جرم" کی پاداش میں سزا سنا ڈالی۔ سزا کا خوف تھا یا اس کی دیدہ دلیری معاملہ جو کچھ بھی رہا ہوایک دن "گا ما خان" جیل کے روشن دان کو توڑ کر فرار ہو گیاانگریز حیران تھا کہ یہ نو عمر لڑکا کیسے جیل سے فرار ہو گیا۔اب گا ما خان کی بدقسمتی کہئے کہ جلد ہی دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔انگریز جج کے سامنے پیش ہوا تو اس نے سوال کیا کہ تم جیل سے کیسے فرار ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوابًا گاما خان نے کہا کہ اگراسےرہا کردیا جائے تو وہ جیل سے فرار کا معاملہ بتا دے گا ۔ انگریز سرکار کے وعدے پر "گا ما خان" نے فرار کا راستہ بتا دیا جیل کا روشن دان بند کردیاگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورگاما خان کو جیل میں ڈالنے کی بجائے ملک بدر کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ملکوں ملکوں گھومتا لبنان جا پہنچا ۔وہیں شادی کی بچے ہوئے زندگی کی گزر بسر کا سامان کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔اس کے والدین اس کی راہ تکتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔لیکن گاما خان ایسا گیا کہ پھر کبھی واپس نہ لوٹا۔گھر والوں کو صرف اتنا معلوم تھا کہ وہ لبنان میں ہے۔
لبنان جانے والی تبلیغی جماعت میں ہمارے شہر کے ایک آدمی کے ذریعے ان سے رابطہ ہوا اور خط وکتابت شروع ہو گئی اور پھر ایک دن صبح میں سو کر اٹھاتو دیکھا کہ گھر کے مہمان خانے میں ایک "سوٹڈ بوٹڈ" شخص آیا بیٹھا ہے۔ معلوم ہوا یہ گاما خان ہیں۔ایک ماہ سے زائد عرصہ پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس لوٹ گئے اور پھر کچھ ہی عرصہ بعد داعئی اجل کو لبیک کہ دیا۔
ان کے ایک بیٹے احمد خان طویل عرصہ خط و کتابت کے ذریعے ہم سے رابطے میں رہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ رابطہ کمزور پڑتے پڑتے ختم ہو گیا۔ کل سہ پہر کلینک کے ایک دراز کی صفائی کرتے ہوئے احمد خان کا ایک خط نظر سے گزرا خوبصورت عربی میں لکھا ہوا خط ۔۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ میں ایک دوسرے کاغذ پر اس کا اردو ترجمہ۔
اس خط نے مجھے ایک نئی سوچ عطا کردی ۔۔۔۔۔۔ میرے رب نے بھی اپنے بندوں کے نام ایک خط لکھا ہے اور وہ خط بھی عربی میں ہی ہے مفسرین حضرات نے اس کی خوبصورت تفاسیر لکھ کر ہم پر اسے سمجھنا آسان کر دیا۔
ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے آسان کر دیا تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا

بدھ، 24 جولائی، 2013

ایک حملہ ،،،،،، ایک سازش

4 comments


بنو مخزوم کے تاج کا سب سے روشن ہیرا،جو کسی بھی میدان جنگ کی آبرو ہوا کرتا تھا، فتح جس کے منہ زور گھوڑے کے
 قدم چومنے کو اپنی سعادت سمجھتی،جس کے نیزے کے ایک اشارے پر جوان اپنے کشادہ سینے سنانوں پر بچھادینے پر بازی لے جاتے۔کہ جس کے پاس درہم ودینار کا نہیں اپنے فتح کئے ہوئے علاقوں اور قلعوں کا حساب ہوا کرتا تھا۔وہ ایسا تھا کہ جو اپنی زندگی میں ہی ایک فسانہ بن چکا تھاوہ جب میدانِ جنگ میں اپنے شانے سے برچھا کھینچتا تو صفوں کی صفیں درہم برہم ہو جاتیں، اور مصلّے سے گھوڑے کی پیٹھ تک کوئی اس کا ثانی نہ تھا۔
ایک ایسا بے مثال بہادر کہ جس کی یلغار کو روکنے کیلئے دشمن یوں متحد ہوئے کہ عورتوں نے اپنا زیور،بوڑھوں نے قدیم خزانے اور بچوں نے اپنے کھلونے تک بیچ ڈالے۔لیکن اس کی یلغار کے آگے بند نہ باندھا جا سکا۔اور اس کی یلغار کو روکا بھی کیسے جا سکتا کہ جسے سیّدالمجاہدین امام الانبیاءنبی خاتم المرسلین جنابِ رسول اللہ ﷺ نے سیف اللہ کا خطاب دیا تھا۔تاریخ جنہیں حضرت خالد بن ولید ؓ کے نام سے جانتی ہے۔ 
بستر مرگ پر لیٹے ہوئے یہ شیر دل مجاہداپنے قریب بیٹھے لوگوں سے مخاطب ہوتا ہے۔” میں نے ان گنت جنگوں میں حصہ لیا۔ کئی بار اپنے آپ کو ایسے خطروں میں ڈالا کہ جان بچانا مشکل نظر آتا تھا لیکن شہادت کی تمنا پوری نہ ہوئی۔ میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں تلوار‘ تیر یا نیزے کے زخم کا نشان نہ ہو۔ لیکن افسوس ! موت نے مجھے بستر پر آدبوچا۔ میدان کار زار میں شہادت نصیب نہ ہوئی۔“کوئی زندگی سے زیادہ جی نہیں سکتا اور موت سے پہلے مر نہیں سکتا اگر میدان جہاد میں موت ہوتی تو آج خالد بن ولید ؓیوں بستر مرگ پر ایڑیاں نہ رگڑ رہا ہوتا۔ 
یہ عظیم المرتبت مجاہد کہ جس کے گھوڑے کے سموں نے روم و ایران کی سلطنت کو تاخت و تا راج کیا ۔ عین حالت جنگ میں جب لوہا لوہے سے اور نیزہ نیزے سے ٹکرا رہا تھا کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراع ؓنے ان کے آہن میں ڈھلے بازو پر ہاتھ رکھ کر وہ پیغام خلافت سنایا کہ جس میں امین الامّت ابو عبیدہ بن الجراع ؓ کو یرموک میں موجود عساکر اسلام کا سپہ سالار مقرّر کیا گیا تھا۔اور پھر وہ جو شکست سے نا آشنا تھا اپنے گھوڑے سے اترا اور قبلہ رو ہو کر سر بسجود ہو گیااور جب سجدے سے سر اٹھایا تو نئے سپہ سالار کو سوگوار آواز میں یہ کہتے سنا کہ خد اشاہد ہے میں نے کبھی بھی اس منصب کی خواہش نہیں کی لیکن مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ تمہیں ابھی یہ فرمان پہنچاؤں اور اس کے ساتھ ہی نئے سپہ سالار کی آنکھیں بھیگ گئیں۔خالد بن ولیدؓ نے نیزہ زمین میں گاڑا اورفرمایا امین الامّت آنسو پونچھ ڈالئے خالدؓ اتنا کم ظرف نہیں کہ اس سوتے پھریرے کے کندھوں سے اتر جانے کے ملال میں جہاد کیلئے اٹھی تلوار کو نیام میں ڈال لے خالد ؓ یہ لڑائی نبی آخری الزماںﷺ کے جھنڈے کی آبرو کیلئے لڑ رہا ہے عمر بن خطاب ؓ کی خوشنودی کیلئے نہیں مجھے حکم دیجئے کہ لشکر کے کس بازو پر ایک عام سپاہی کی طرح جنگ کروں۔جن قوموں کو ڈوبنا نہ ہو وہ سیف اللہ ؓ ہی کی طرح ڈسپلن کو اپنی زندگی
میں عام کرتی ہیں۔


اور حضرت بی بی زینب ؓوہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے یزید کے بھرے دربار میں دلیرانہ طور پر اس کی یزیدیت اور بربریت کو شدید مذمت کا نشانہ بنایا۔ حضرت بی بی زینب ؓ کا یزید کے دربار میں یہ اہم خطبہ تاریخ کا اہم ترین حوالہ بن چکا ہے۔ 
سیدہ زینب ؓاور حضرت خالد بن ولید ؓ دونوں ہی جلیل القدر شخصیات ہیں۔ ایک نے یزید کے دربار میں کھڑے ہوکر اعلاے کلمة اللہ بلند کیا تو دوسرے نے اللہ کی زمیں پر اللہ کا نظام قائم کرنے کیلئِے روم اور ایران جیسی عظیم الشان سلطنتوں کو اپنے گھوڑے کےسموں تلے روند ڈالا۔
ان کے مزاروں کو نشانہ بنانا کسی بڑے کھیل کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بات میں وزن ہے کہ فرقہ ورانہ فسادات کرانے کیلئِے یہ ڈرامہ رچایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں یہ خلیج مزید گہری ہوگی۔دشمن ہمیں شیعہ ، سنی اور دیوبندی، بریلوی میں تقسیم کروا کے پہلے ہی سے ٹکڑوں مین بٹی امّت مسلمہ کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ 
ہے کوئی ایسا حکمران جو اس سازش کو سمجھے اور آگے بڑھ کو دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دے

جمعہ، 19 جولائی، 2013

قیمتی متاع

2 comments


 کبھی میں سوچتا ہوں کہ د نیا میں انسان کی سب سے قیمتی متاع کیا ہے۔ وہ ہستی کہ جس کی دعا ؤں سے ہر مشکل آسان لگے۔۔۔ کہ جس کی آغوش میں آ کر انسان اپنے تمام دکھوں، پریشانیوں اور آہوں کو بھلا دے اور ایسی راحت محسوس کرے کہ اس جیسی راحت کہیں اور نہ ملے، اور جو ہستی اس کیلئے تمام تر صعوبتوں کو بخوشی جھیل لے۔سوچتے سوچتے جب کوئی جواب نہ بن پائے تو دل کے نہاں خانے سے ایک صدا آتی ہے کہ وہ ہستی تو ماں ہے جو اپنی اولاد کے لیئے ٹھنڈی چھاؤں کا درجہ رکھتی ہے۔ اور اس ہستی کے بارے میں کچھ پڑھتے، لکھتے یا سنتے ہوئے آنکھیں ہمیشہ نم ہو جاتی ہیں۔انورمسعود کی زبان سے ماں کے حوالے سے ان کی مشہور نظم "امبڑی" سنتے ہوئے تو میں دیر تک بیٹھا روتا رہا۔
 اورجب میں نے کسی کتاب میں پڑھا کہ والدہ کی وفات کے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں ٹھوکر لگی تو غیب سے آواز آئی ”اے موسیٰ! سنبھل کر چل اب تیرے پیچھے دعا کرنے والی تیری ماں موجود نہیں ہے"۔ تو میں دیر تک گم سم رہا کہ وہ تو وقت کے پیغمبر تھے اور میں آج کے دور کا ایک بھولا بھٹکا انسان کہ جو شاید دعاؤں کے سہارے ہی چل رہا ہے ا س کے پیچھے دعاؤں میں اسے یاد رکھنے والی ہستی تو ایک عرصہ ہوا اس دنیا سے رخصت ہو چلی۔اور پھر تصور ہی تصور میں آج سے 30 برس قبل کا وہ منظر نگاہوں میں گھوم گیا جو کل کی طرح آج بھی تازہ ہے۔
جون کی گرمی کی وہ تپتی ہوئی دوپہر اور رمضان کی 9 تاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں پانی کی بالٹی میں چلتی پوئی" سٹیم بوٹ " سے کھیلنے میں مصروف تھا کہ صحن میں جھاڑو لگاتی ہوئی وہ چکر کھا کر گرگئیں۔اور پھر چند ہی لمحوں میں "الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا"کے مصداق وہ مہربان ہستی ہم سے بہت دور جا چکی تھی۔۔۔۔آج بھی لوگ ان کی مہمان نوازی ،قربانی ،ایثار اورصبرو رضا کی مثالیں دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ آج پھر نواں روزہ ہے موسم میں گرمی کی شدّت تو نہیں لیکن آنکھیں گرم گرم آنسوﺅں سے لبریز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزرے ہوئے تیس برس ہر لمحہ ان کی یادوں اور دعاؤں کی کمی بے چین کئے رہی تکلیف،دکھ اور پریشانی سے زیادہ خوشی،مسرت اورآسائش کے لمحات نے ان کی کمی کو زیادہ محسوس کروایا۔۔آپ سبھی دوستوں سے درخواست ہے جب افظاری کے وقت دعاکیلئے ہاتھوں کو اٹھائیں تو میری امّی جان کو بھی یاد رکھئے۔ آپ کا مشکور ہوں گا۔


سوموار، 15 جولائی، 2013

یہ جدوجہد تو کسی طور رکنے والی نہیں

2 comments

زندگی کے بعض دکھ اس قدر گھمبیر ہوتے ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتے ۔ان کی کسک زندگی کے ساتھ قائم رہتی ہے۔پاکستان کے دو لخت ہونے کا دکھ ہر درد دل رکھنے والے پاکستانی کیلئے ایک بہت بڑا المیہ تھا۔لیکن مجھے اس المیے اور دکھ کا احساس اپنی عمر کی پندرہ بہاریں دیکھنے کے بعد اس وقت ہوا جب میں نے سلیم منصور خالد کی کتاب"البدر"اور طارق اسماعیل ساگر کی کتاب "لہو کا سفر"کا مطالعہ کیا۔قیام بنگلہ دیش کا سانحہ اگر چہ میری پیدائش سے بھی تین سال پہلے کا ہے لیکن یہ دونوں کتابیں پڑھنے کے دوران میں تصوّرمیں اپنے آپ کو ڈھاکہ اور چٹا گانگ کی گلیوں اور بازاروں میں کمسن لیکن پر عزم البدر اور الشمس کے مجاہدین کے شانہ بشانہ پاکستان کی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے دیکھتا رہا۔اورپھر پاکستان کے دولخت ہونے کا یہ دکھ میری زندگی کا ایک مستقل روگ بن گیا۔جو کبھی بھولے سے بھی بھلایا نہ جاسکا۔شاید یہی وجہ ہے کہ میں جب کبھی پاکستان کی محبت سے سرشاراپنے بنگالی بھائیوں کو دیکھتا تو ان کے احترام میں میرا سر ہمیشہ جھک جاتا۔کس قدر عظیم ہیں وہ لوگ کہ جنہوں نےا اپنے گھر بار اور بچے قربان کر دیئے لیکن پاکستان سے محبت کے جذبوں پر آنچ نہ آنے دی ۔ کہ جنہیں نہ کبھی پاکستان نے تسلیم کیا نہ کبھی بنگلہ دیش نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو بنگلہ دیش میں بستے ہوئیے بھی پاکستان سے محبت کا دم بھرتے رہے۔اور اپنے ہی وطن اپنے ہی دیس اپنی جنم بھومی بنگلہ دیش میں جنگی مجرم قرار پائے
90 سالہ بوڑھے پروفیسر غلام اعظم کو 90سال قید کی سزا سنائے جانے کی خبر سن کر پاکستان کے دولخت ہونے کا دکھ ایک بار پھر تازہ ہو گیا۔پروفیسر غلام اعظم کو40سال قبل کے واقعات کے حوالے سے ”انسانیت کے خلاف جرم کے ارتکاب“ کے نام نہاد الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ 90 سالہ بوڑھے پروفیسر غلام اعظم نہ ٹھیک سے چل سکتے ہیں، نہ صاف دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی صاف سن سکتے ہیں۔ اس کے باوجودمسلح پولیس اہلکار24 گھنٹے ان کی نگرانی پر متعین ہیں۔آج سہ پہر پاکستان سے محبت کے اس مجرم کو 90سال سزائے قید سنا دی گئی۔یہاں یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ گزشتہ 40سال میں، پروفیسر غلام اعظم اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی موجودہ قیادت کے خلاف کسی قسم کا کوئی فوجداری کیس، نہ حکومت کی طرف سے اور نہ ہی کسی شہری کی طرف سے دائر کیا گیا۔ بنگلہ دیش کے کسی بھی تھانہ میں کوئی ایف آئی آر تک درج نہ ہوئی۔ ان 40 برسوں کے دوران عوامی لیگ دو بار حکومت میں آئی، لیکن جماعت کی قیادت کے خلاف اس طرح کا کوئی سنگین الزام ان ادوار میں بھی نہیں لگایا گیا۔ مگر2009 میں جب یہ تیسری بار اقتدار میں آئی ہے تو جماعت کی قیادت پر ”انسانیت کے خلاف جرائم“ جیسے سنگین مقدمات بنانا شروع کردیے ہیں۔ آخرایسا کیوں کیا جا رہا ہے ؟ اپنے ایک انٹرویو میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر غلام اعظم کہتے ہیں کہ ایسا سیاسی انتقام کی خاطرہو رہا ہے۔ حکومت، جماعت کو بے دست و پا کرکے، اپنے خلاف سیاسی اتحاد کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ تادیر اقتدار میں رہ سکے۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی جنگی جرائم سے متعلق عدالت کا یہ پانچواں فیصلہ ہے جو اس نے جماعتِ اسلامی کے موجودہ اور سابقہ رہنماؤں کے خلاف دیا ہے۔
پروفیسر صاحب نے ایک بار ہفت روزہ "ایشیا" کو ایک انٹریو دیتے ہوئے یہ بات بتائی تھے کہ وہ سیاست میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنے دینی شوق اور پیاس کی خاطر تبلیغی جماعت سے بھی وابستہ تھے۔ اس وقت بھی تن دہی سے اللہ کے دین کی دعوت دیا کرتے تھےاور لوگوں کی درست رہنمائی کیا کرتے تھے۔ پھرایک بار ایسا ہوا کہ جماعت اسلامی کے کسی پروگرام میں شرکت کا موقع ملا اور ایک مقرر نے دوران تقریر یہ بات کہی کہ  یہ نماز روزہ اور زکوٰةاور حج تو کسی بڑے مقصد کی طرف تیاری کا وسیلہ ہیں۔ یقینا اللہ کو نمازیں پڑھوانا مقصود نہ تھا۔ نماز کے اندر جو اقامت دین کی تعلیم ہے اس کا نفاذ مقصد تھا۔پروفیسر صاحب کا فرمانا تھا کہ مقرر کی یہ بات سن کر میں ساری رات اس بات پر سوچ وبچار میں رہا کہ دین کا کام جو میں کر رہا ہوں کیاوہ اقامت دین کا کام ہے اور پھر مولانا مودودی کی تحریروں تک رسائی ہوئی توان تحریروں نے ان کے دل  کی دنیا ہی بدل دی۔ انھوں نے کہا کہ بس وہ جت گئے اور ہر طرح سے اللہ سے پھرے ہوئے نظام کو پلٹنے کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اس کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہندووانہ تہذیب اور معاشرت ہے ، جو اس وقت کے مشرقی پاکستان کے اندر سرایت کر رہی تھی۔ انھوں نے ہندوستا نی تہذیب و تمدّن کی مخالفت اوربھارتی تسلط کی مخالفت کی۔ اس کے لئے نوجوانوں کو منظم کیا۔ عبد المالک شہید ، ڈاکٹر مصطفی شوکت عمران شہید اور شاہ جمال چوھدری شہید ان ہی کے لگائے ہوئے پودے تھے۔ یہ بھارت کو کیسے ٹھنڈے پیٹوںبرداشت ہوپاتا۔ بس اسی لئے ان کو نشان عبرت بنانے کا تہیہ کیا گیا۔ آج اس کا ڈراپ سین ہے۔۔
 لیکن یہ جدوجہد تو کسی طور رکنے والی نہیں
مٹّی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

جمعرات، 11 جولائی، 2013

استقامت وعزیمت کی روشن مثالیں

12 comments

میرے پاس تاریخ کے جھروکوں سے ایک تصویر ہے آیئے میں آپ کو وہ تصویر دکھاتا ہوں
یہ 12فروری1949کا دن ہے ۔ مصر کے بادشاہ فاروق کے حکم پر اخوان المسلمون کے بانی مرشد عام امام حسن البنا شہید کو رات کی تاریکی میں دھوکے سے مذاکرات کے بہانے بلا کر اندھا دھند فائرنگ کرکے شہیدکر دیا گیا ..اناللہ واناالیہ راجعون
اور میں چشم تصور سے دیکھ رہا ہوں اب نماز جنازہ کا وقت ہو چلا ہے ۔تمام کارکنان پابند سلاسل ہیں عام افراد پر بھی گھروں سے نکلنے پر پابندی ہے.....کسی کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ہے .....
شہید کے والد کا کہنا ہے"گھر میں کوئی مرد نہیں کچھ افراد کو بھیجو جنازہ اٹھا کرگاڑی میں رکھ دیں".....
سرکاری جواب ملتا ہے "مرد نہیں ہے تو عورتیں جنازہ اٹھا ئیں"..
ان کی اہلیہ,ان کی بہن،18سالہ بیٹی اور 90 برس سے متجاوز والد جنازہ اٹھاتے ہیں۔
اور پھر
شہید باپ کی روح کو مخاطب کرکے بیٹی نے کہا..............
"باباجان آپ کے جنازے کے ساتھ لوگوں کا ہجوم نہیں ہے۔زمین والوں کو روک دیا گیا ہے مگر آسمان والوں کوکون روک سکتا ہے"
جامع مسجد قیسوم.... بندوقوں کے سائے میں جنازہ پڑھا گیا پھر امام شافعی کے قبرستان میں تدفین...سلسلہ چلتا رہا اور قافلہ بھی اور پھر .... 24 جون 2012ء کی روشنی.......جب حسن ا لبنا شہید کی اخوان مصر میں حکمران بنی ۔۔۔۔۔۔۔۔
منظر بدلتا ہے اور ایک اور تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے
3جولائی 2013مصر میں اخوان کی منتخب حکومت فوجی طالع آزماؤں کے ہاتھوں اختتام کو پہنچتی ہے۔ مصری صدر محمد مرسی سمیت ہزاروں کارکنان ایک بار پھر پابندِ سلاسل کر دئیے جاتے ہیں۔ایسے میں صدر مرسی کا بیٹااسامہ مرسی اپنے باپ سے مخاطب ہے۔
"ابا جان اگر آپ تک میرا پیغام پہنچ رہا ہے تو سنیں " کہ آپ کی پوری فیملی میدان رابعہ العدویہ میںاپنے ہم وطنوں کے ساتھ موجود ہے۔آپ اپنے نظریات کے ساتھ ثابت قدم رہیں،غاصبوں اور ظالموں کے سامنے ہر گز نہ جھکیںخواہ حق کی خاطر آپ کو موت ہی کو کیوں نہ گلے لگا نا پڑے۔اور اگر آپ راہِ خدا میں کام آگئے تو ہم رب کے حضور سجدہِ شکر ادا کریں گے۔اسامہ مرسی کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے ان سے اپنی آخری گفتگو میں کہا تھا کہ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کردیا جاؤں تو آپ لو گ رنج وملال کی بجائے صبر وبرداشت سے کام لینا۔
حق کی راہ پر چلنا پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بستر ہے ۔کس قدر مشترک ہیں یہ دونوں پیغامات۔ایک شہید قائد کی بیٹی کا اپنے باپ کیلئے اور دوسرا ،ایک پابند سلاسل قائدکے بیٹے کا اپنے والد کے نام
اپنے کارکنان کے اس قدر خوبصورت تربیّت کرنے والی تحریکیں کیا ناکامی سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

منگل، 9 جولائی، 2013

رمضان مبارک

3 comments


اپنے گناہوں کی دلدل میں پھنسے،عصیاں کی تاریک وادیوں میں بھٹکتے،ظلم وجور کے ان دیکھے انجام کی طرف بڑھتے اورفسق وفجور میں ڈوبے ہوئے انسانوں کیلئے شعبان کی آخری تاریخ میں مغرب کے قریب افق پر خدا کی رحمتوں اور بخششوں کا اعلان کرتا ہوا چاند نمودار ہونے کوہے۔جسے دیکھ کر اہل اسلام کے لبوں پر بے ساختہ یہ دعا آجاتی ہے 

اَللّٰهُمَّ اَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْاِيْمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ وَالتَّوْفِيْقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی رَبِّيْ وَرَبُّکَ اﷲُ.
’’اے اللہ! اس چاند کو ہم پر برکتِ ایمان، خیریت اور سلامتی والا کردے اور (ہمیں) توفیق دے اس(عمل) کی جو تجھے پسند اور مرغوب ہو (اے چاند!) میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔‘‘
سنن دارمی ،ج 1،حدیث 336
رمضان المبارک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیکیوں کا موسمِ بہار کہ جس کی آمد میں ابھی کچھ ہی گھڑیاں باقی ہیں۔اس کی برکتوں اوررحمتوں کا اندازہ اس مشہور حدیث سے ہو تا ہے جسے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے روایت فرمایا کہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام ؓ کو ایک خطبہ دیا -جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک عظیم اوربا برکت مہینہ سایہ فگن ہوا چاہتا ہے ،جس کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، اللہ تعالی نے اس مہینے کے روزے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں کے قیام کو نفل قراردیا ہے پس جو شخص اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے اس مہینے میں کوئی غیر فرض عبادت (یعنی سنت یا نفل) ادا کریگا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا ، اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر (70) فرضوں کے برابر ملے گا
اوریہ کہ رمضان صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے - اور یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے - جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے افطار کرایا تو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور جہنم سے آزادی کا ذریعہ ہوگا ، اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے - آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جوکسی کو دودھ کی لسی پلا دے یا پا نی کا ایک گھونٹ ہی پلا دے۔اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلادے تو اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا - اس کے بعد آپ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ماہ مبارک کا پہلا حصہ رحمت ہے ، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے - اس کے بعد آپ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام کے کام میں کمی کردے گاتو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی دے گا (بیہقی)
بخاری کی ایک حدیث ہے کہ :نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت رمضان میں دیگر ایام سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے جو تازگی لاتی ہے۔
 خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مقدس مہینے کے تقاضوں کو کامل خلوص اور غیرفانی لگن کے ساتھ پورا کرتے ہوئے دنیا و آخرت کی سعادتوں اور شادمانیوں سے سرفراز ہوں گے
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ اس رمضان کو ہماری زندگیوں میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنا دے اور رب تعالٰی اسے ہماری بخششوں کا ذریعہ بنا کر ہمیں اپنی جنتوں کا حقدار بنا دے۔ آمین

ہفتہ، 6 جولائی، 2013

جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر

3 comments

مصر میں ایک منتخب حکومت کا تختہء الٹ کر اس کے خلاف فوجی بغاوت پر دنیا میں جمہوریت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اسلام کے نام لیواؤں کی حکومت کسی صورت پسند نہیں خواہ وہ جمہوری عمل کے ذریعے ہی عمل میں کیوں نہ آئی ہو۔ یہ جمہوریت کے دعویدار صرف لادین حکومتوں کے محافظ ہیں خواہ وہ کوئی آمر ہی کیوں نہ ہو۔ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی طرف سے مصر کے فوجی آمروں کو مبارکباد اور انہیں خوش آمدید کہنے کے پیغامات بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالم اسلام کی تمناؤں اور آرزوؤں کے مرکز پر متمکن حکمران بھی خواب غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہیں۔ اور مسلمانوں کے قبلہ وکعبہ کے خادمین کا قبلہ "کہیں اور" ہے۔
مصر میں دنیا کی سب سے زیادہ منظم اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے قائداور امام حسن البناء کے جانشین محمد بدیع لاکھوں کےمجمعے سے مخاطب تھے تو میں سوچ رہا تھا کی کیا گولیوں کی بوچھاڑ، آنسو گیس کی شیلنگ،اور ساتھیوں کی شہادتیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان  کے حوصلے پست کر سکتی ہیں کہ جنہوں نے اس ملک مین بدترین آمریت کےکئی سال اپنی جوانیاں جیلوں کی نظر کر دیں۔
مصری فوج کو یقین تھا کہ محمد بدیع کبھی منظر عام پر نہیں آئیں گے اس لئے اس نے مرشد عام کی گرفتاری کی افواہ پھیلا کر کارکنوں کے حوصلے پست کرنے کی ایک ناکام کوشش کی لیکن کل شام محمد بدیع کی منظر عام پر آمد اور آمروں کے خلاف للکار نے فوج پرہیبت طاری کر دی ہے۔انہوں نے مظاہرین کے جس اجتماع سے خطاب کیا ہے اس اجتماع کی مثال حسنی مبارک کے خلاف تحریک میں بھی نہیں ملتی۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مرشد عام اخوان المسلمون کا کہنا تھا 
اے عظیم مصر کے نوجوانو۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں تم پر فخر ہے۔۔۔۔۔۔ہمیں ان پر بھی فخر ہےجو شہید ہو گئے۔۔۔۔۔کل تک وہ آپ کے درمیان تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔آج وہ ایک عظیم مقصد کیلئےہو گئے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں فخر ہے ان پر جو جیلوں میں ڈال دئے گئے اور جو عدالتوں میں گھسیٹے جا رہے ہیں لیکن سن لو کہ یہ سب کچھ رائیگاں نہیں جائے گا۔۔۔۔۔۔ ہم بھاگے نہیں ہم گرفتار نہیں ہوئےکیونکہ ہم چور اچکے اور دہشت گرد نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم ایک عظیم انقلاب کیلئے میدان میں نکلے ہیں ہم اس وقت تک لاشیں اٹھانے سےنہیں گھبرائیں گے جب تک مصر کے فرعونوں کو گھر نہیں بھیج دیتے۔ہم کسی بھی صورت شہداء کے خون سے سینچے گئے انقلاب کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ہم پر امن جدوجہد کے حامی ہیں اور پرامن جدوجہد سےمصر کو حقیقی انقلاب کی طرف لائیں گےتم ہمیں ٹینکوں سے ڈراتے ہو تو سن لو کہ ہمیں موت سےڈرانا ممکن نہیں
ہم نہ تو عبوری حکومت کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی نئے الیکشن کو ، مرسی آج بھی مصر کے صدر ہیں ، ان کی واپسی تک کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے ۔ 
اب منظر کچھ یوں لگ رہا ہے کہ تحریر سکوائرمیں میدان ایک بار پھرسجنے کو ہے لیکن یقینی طور پر اب کی بار اس میدان میں لادین اور سوشلسٹ نہیں بلکہ اللہ کے دین کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے اخوان اپنی محفل سجائیں گے۔ یہ تحریک کب اور کیسے اپنی منزل تک پہنچتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات طے ہے کہ
بالآخر اللہ کا کلمہ ہی بلند ہو کر رہے گا

بدھ، 3 جولائی، 2013

معاشرے انصاف کے ساتھ زندہ رہتے ہیں

1 comments
اس تصویر کی کاٹ کتنی گہری ہے


ایک معصوم بچی اپنے والد کی تلاش میں اپنی ماں کے ہمراہ انصاف اور امن کیلئےدربدر ہےلیکن اس کیلئے انصاف کا کوئی در نہیں کھلتا کسی امن عالم کے ٹھیکیدار کے کان پر کوئی جوں نہیں رینگتی۔دنیا کو جنگ وجدل کے حوالے کر دینے والےعالمی امن عالم کے ٹھیکیدار اور دنیا کو انصاف کا پیغام دینے والے بے انصافی کے پیامبرشایداس بات سے بے خبر ہیں کہ دنیا میں وہی معاشرے زندہ رہتے ہیں جہاں ہر ایک کو بلاتفریق انصاف ملے۔ ناانصافی معاشروں کو تباہی کے گہرے غار میں دھکیل دیتی ہے۔اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر کفر کی حکومت تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن ظلم کی نہیں۔
جب ہر طرف ظلم وستم کا بازار گرم ہو بستیاں اور بازار لہو لہان ہوں ۔ماؤں کو سکول جانے والے بچوں کی خیریت سے واپسی کا یقین نہ ہو۔اور کام پر جانے والے پانچ معصوم بچوں کا باپ شام کو سفید کفن اوڑھے گھر لوٹے۔جہاں انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے خود انصاف کیلئے مارے مارے پھریں وہاں انسان کس سے انصاف کی امید کرے۔
اس معصوم بچی کی تصویر اور اس کی انکھوں میں جلتی بجھتی امید و یاس کی روشنی دیکھ کر مجھے تاریخ کے جھروکوں سے ایک حکمران یاد آرہا ہے۔
عین حالت جنگ میں جب ہر روز سینکڑوں شہ سوار موت کے گھاٹ اتر رہے تھے اور ہر لشکر اپنی فتح کیلئے دوسرے کو تہ تیغ کر دینے کیلئے کمر بستہ تھا۔ایک عیسائی عورت روتی پیٹتی ہوئی سلطان کی خدمت میں حاضر ہوتی ہے کہ جنگ زدہ ماحول اور دھول اڑاتے لشکروں کے درمیان اس کا لخت جگر کہیں کھو گیا ہے۔یہ بات بجا کی فریاد کرنے والی دشمن قوم سے تعلق رکھتی تھی لیکن وہ ایک ماں تھی اور یہ فرزند ہی اس کی کل متاع تھی۔
سبز آنکھوں والے سپہ سالار نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ اردگرد کی تمام آبادیوں کا احاطہ کرلیا جائے اور اس عورت کا بچہ تلاش کر کے لایا جائے۔
اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی ایک پہر بھی نہیں گزرا تھا کہ مغرب سے مسلمانوں کی سرزمین پر حملہ آور ہونے والوں میں شامل اس خاتون کا لخت جگر تلاش کر لیا گیا۔
عورت خوشی سے دیوانہ وار آگے بڑھی اور سلطان کے آگے سجدہ ریز ہوگئی۔
نہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلطان کی آواز فضاء میں گونجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک فرض تھا جو ادا کر دیا گیا۔اب تم اپنے لوگوں میں واپس لوٹ جاؤ۔
وہ عظیم الشان حکمران جسے دنیا  "سلطان صلاح الدین ایوبیؒ " کے نام سے جانتی ہے یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ
"معاشرے امن وانصاف میں زندہ رہتے ہیں ،ناانصافی اور بدامنی انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے"

ہے کوئی ایسا شخص جو ہمارے حکمرانوں کو یہ بات بتا دے۔

سوموار، 1 جولائی، 2013

بالآخر ہم نے بھی بلاگ بنا ڈالا

12 comments
کاغذ اور قلم سے رشتہ تو بچپن سے ہی تھا ۔ خوب لکھا بھی اور بچوں کے ہفت روزہ اخبارات نے انہیں چھاپا بھی۔جب بھی کوئی پوچھتا کہ اچھا آپ ہیں اسلم فہیم جن کی تحریر فلاں اخبار میں تھی تو ہم خوشی سے پھولے نہ سماتے۔ قلم اور کاغذ سے کچھ آگے بڑھے تو معاملہ کمپیوٹر تک آ پہنچا۔ اب مسئلہ یہ آن پڑا کہ کمپیوٹر توخرید لیا لیکن اسے آپریٹ کیسے کرنا ہے اس بات کی ہمیں کوئی خبر نہ تھی لیکن ہم بھی دُھن کے پکّے تھے سو مستقل مزاجی سے لگے رہے اور آج لوگ ہم سے پوچھنے آتے ہیں کہ کمپیوٹر میں یہ خرابی آگئی ہے اسے کیسے حل کیا جائے ۔برادر م راحیل ملک اور ان تمام احباب کا شکریہ کہ جنہوں نے مجھے کمپیوٹرکو سمجھنے اورانٹر نیٹ تک رسائی میں مدد دی۔ ایک طویل عرصے تک انٹر نیٹ پرہماری دوڑ ویب سرچنگ اور فیس بک تک محدود رہی لیکن جب بلاگر اور ورڈ پریس پر لوگوں کے رنگ برنگ بلاگ دیکھتا تو لکھنے لکھانے کی رگ ایک بار پھر پھڑک اٹھتی اور پھر بالآخر ہم نے بھی ورڈ پریس پراپنا بلاگ بنا ڈالا۔ لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ وہ ویسا خوبصورت تو تھا نہیں کہ جیسے اور بلاگ نظر آتے ہیں ۔سو ہم نے ایک بار پھر دوستوں سے مدد لینے کی ٹھانی اور انٹر نیٹ پر موجود اپنے احباب ولی خان،نوید فخر،اور باالخصوص محترم بھائی مصطفٰی ملک کا شکریہ کہ جن کی مدد اور مشورے سے میں بلاگ سپاٹ پر اپنا بلاگ بنانے اور اسے خوبصورت لے آؤٹ دینے میں کامیاب ٹھہرا۔
یہ بلاگ کیسا نظر آرہا ہے اور اسے کامیابی سے چلانے میں ،میں کہاں تک کامیاب رہتا ہوں یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں مجھے آپ دوستوں کی آراء اور تبصروں کا انتظار رہے گا۔ 

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers