جمعرات، 20 جون، 2013

وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2 comments
وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔اسلامی جمعیت طلبہ کے 
ناظم کی حیثیّت سے میں جب بھی جمعیت کی کوئی خبر لگوانے کیلئے ان کے پاس جاتا ہمیشہ شفقت سے پیش آتے۔خبر کی نوک پلک درست کرتے خبر بنانے کا طریقہ بتاتے حقیقت یہ ہے کہ میں نے خبر بنانا ڈاکٹرمظہر مسعود صاحب اور مرحوم صاحبزادہ سعید اختر سلیمانی سے سیکھا ان دونوں حضرات کی محبّت ہی تھی کہ جس کے باعث میں خبر بنانے کے قابل ہوا۔مجھے ان کے ساتھ ایک صحافی ، ایک سیاسی کارکن اورایک ڈاکٹر کی حیثّت سے کام کرنے کا موقع ملا ۔ 1996میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف جماعت اسلامی کے قائد مرحوم قاضی حسین ا حمد نے احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا تو ملک بھر میں ہزاروں کارکنان اور راہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا اس وقت مجھے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اٹک جیل میں وقت گزارنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔بلاشبہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ۔ ایک طویل عرصہ عارضہ قلب میں مبتلا رہنے کے بعد یہ مرد درویش  4جون کی سہ پہر ہم سے ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گیا۔جسے اگلے دن 10بجے فتح جنگ کے نواحی علاقے صدکال کے قبرستان میں منوں مٹی تلے دفن کر دیا گیا۔ میں ان کی نماز جنازہ میں شریک تھا لوگ ان کے حقیقی ورثاء کے علاوہ ہم سے بھی تعزیت کرتے رہے ان کے داماد برادر ڈاکٹر غلام رضا سے مل کر افسوس کرتے ہوئے بہت دیر سے میری آنکھوں میں رکے آنسو چھلک پڑے۔اللہ رب العزّت سے دعا ہے کہ وہ ان کی خطاؤں سے درگزر کرتے ہوئے ان کی قبر کو نور سے منوّر کردے

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers