جمعرات، 26 دسمبر، 2013

فیس بک اور ٹویٹر پراردو نستعلیق فانٹ میں

6 comments
فیس بک اور ٹویٹر پر اردو لکھتے اور پڑھتے ہوئے اس کا عجیب وغریب "تاہو" فانٹ میں نظر آتی ہے جو پڑھنے اور دیکھنے میں بالکل بھی بھلی نہیں لگتی اور بے اختیار جی چاہتا ہے کہ کاش یہ اس انداز میں نظر آئے جیسے ہم کتابوں میں لکھا ہوا دیکھتے ہیں تو قارئین اب یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا۔اردو کی شبانہ روز ترقی کیلئے کوشاں ہمارے محترم بھائی محمد بلال محمود نے اس مسئلے کو بہت خوبصورت انداز میں حل کر دیا جنہوں نے پہلے تو شائقین اردو کیلئے کمپیوٹر پر ہر جگہ اردو لکھنے اور پڑھنے کیلئے پاک اردو انسٹالر کے نام سے سافٹ وئر تیار کرکے ہم جیسے طالب علموں کیلئے گراں قدر خدمت سرانجام دی اور پھر فیس بک اور ٹویٹرکے استعمال کنندگان کیلئے اردو نستعلیق پلگ ان اور سکرپٹ کی تیاری کے ذریعے ایک عظیم کارنامہ سر انجام دیا ہے 
فیس بک اور ٹویٹر پر سب سے پہلے آپ کے کمپیوٹر پر پاک اردو انسٹالر انسٹال ہونا ضروری ہے جو آپ یہاں سے بآسانی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں،پاک اردو انسٹالر کے ذریعے نہ صرف آپ کے کمپیوٹر پر اردو بہتر انداز میں نظر آئے گی بلکہ آپ اس کی بدولت ہر جگہ آسانی سے اردو لکھ بھی سکیں گے۔اب ایک پلگ ان اور اس کا سکرپٹ انسٹال کرنا ہے سب سے پہلے اس لنک پر جائیں اور وہاں سے تصویر
 میں دئیے گئے طریقہ کار مطابق Stylish پلگ ان انسٹال کریں۔اس پر کلک کرنے کے بعد اپنے براؤزر کی سیٹنگ کے مطابق اسے Add یا Install کر لیں۔ انسٹالیشن مکمل کرنے کے بعد براؤزر کو بند کرکے دوبارہ چلائیں۔ اب دوبارہ اس لنک پر جائیں یہ پہلے والا ہی لنک ہے اگر پلگ ان کامیابی سے انسٹال ہو جائے تو پہلے جہاں Stylish کے انسٹال ہونے کا لنک تھا اب وہاں Install With Stylish ہو گا جس طرح اس تصویر میں نظر آرہا ہے،
 اس بٹن پر کلک کرنے اور اپنے براؤزر کی سیٹنگ کے مطابق Install یا Addکرنے کے بعد آپ فیس بک اور ٹویٹر پر اردو نستعلیق فانٹ میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں گے
بلاگ کی اس پوسٹ کا محرّک بننے والے احباب محمد بلال محمود،عمیر سعود قریشی، مظہر علی اور ہماری محترمہ بہن سکوتِ آگاہی کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے۔

سوموار، 16 دسمبر، 2013

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا ...

15 comments
ماہِ دسمبر شاعروں اور ادیبوں کے نزدیک ہمیشہ سے ہی اداسیوں کا استعارہ رہا ہو گا لیکن میں نے جب سے سنِ شعور میں قدم رکھا دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایک عجیب سے بے چینی اور بے سکونی طبیعت میں در آتی ہے،اور اس اداسی اور بے چینی کا تعلق اس ماہ کی 16 تاریخ کو تاریخ کے اس سیاہ ترین دن سے ہے جب مدینہ منورہ کے بعد اس صفحہء ہستی پر اسلام کے نام پر قائم ہونے والی دوسری مملکتِ خداداد کو دو لخت کر دیا گیا۔ قیام بنگلہ دیش کا سانحہ اگر چہ میری پیدائش سے بھی تین سال پہلے کا ہے  لیکن مجھے اس المیے اور دکھ کا احساس اپنی عمر کی پندرہ بہاریں دیکھنے کے بعد اس وقت ہوا جب میں نے سلیم منصور خالد کی کتاب"البدر"اور طارق اسماعیل ساگر کی کتاب "لہو کا سفر"کا مطالعہ کیا۔ 16 دسمبر 1971ء پاکستانی حکام اور عوام کا نظریہ پاکستان کی اسلامی اساس سے دوری اور غفلت کا تازیانہ ہے۔ سقوط ڈھاکہ نے‘ برصغیر پاک و ہند کی مذہبی، سیاسی ،سماجی ،عسکری اور معاشی زندگی میں نہ ختم ہونے والے اثرات مرتب کئے ہیں۔16 دسمبر کا افسوسناک دن ہماری تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب لکھ گیاجب سقوط ڈھاکہ کا المیہ پیش آیا.
 سقوط ڈھاکہ کے المیہ میں شیخ مجیب الرحمن، یحیٰی خان، بھٹو اور اندراگاندھی جیسے کرداروں کا جو عمل دخل تھا ان میں مجیب الرحمن اپنے اہل خانہ کے ساتھ قتل ہوگیا. اندراگاندھی کو اس کے سکھ محافظ نے گولی ماردی اور بھٹو کو محمد خان قصوری کے قتل کےالزام میں پھانسی دے دی گئی اور یوں اس دور کے حالات و واقعات کے کئی کردار اپنے انجام کو پہنچ گئے. آج جنرل نیازی اس دنیا میں ہے نہ یحیٰی خان لیکن جب بھی 16 دسمبر کا دن آتا ہے اس دور کے تمام کردار سامنے آجاتے ہیں اور پاکستانی قوم آج بھی اس دن کو یاد کر کے سوگوار ہوجاتی ہے.لیکن اب کی بار دسمبر ایک بار پھر اس انداز میں وارد ہوا ہے کہ ایک بار پھر بنگلہ دیش میں خون کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔نام نہاد "بنگلہ بندھو" شیخ مجیب الرحمٰن جسے اس کے اپنے ہی قریبی ساتھیوں نے بھارتی ایجنٹ ہونے کے الزام میں خاندان سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا تھا کی واحد بچ جانے والی صاحبزادی  بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد اپنے "بھارتی آقاؤں" کو خوش کرنے کیلئے ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جن کا تصوّر ہی ہولناک ہے۔ بنگلہ دیش میں دینی جماعتوں کے بڑھتی ہوئی مقبولیّت نے بھارت اور بھارتی نواز حکمرانوں کے ہوش اڑا دئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اس طرح کے گھناؤنے انتقام پراتر آئے ہیں اور"نورمبرگ"ٹائپ عدالتوں کے ذریعے سے متحدہ پاکستان کی حامی قوتوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا آغاز ہو چکا ہے جس کا پہلا نشانہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر عبدالقادر ملا بنے جنہیں 12 اور 13 دسمبر کی درمیانی شب پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔اس خبر نے بلاشبہ دردِدل رکھنے والے ہر پاکستانی اور تاریخ کے ہر ذی شعور طالب علم کو افسردہ کر دیا ہے۔آج بھی "مکتی باہنی" کی باقیات اس ایجنڈے پر مصروفِ عمل ہیں کہ بنگلہ دیش کو بھی بھوٹان کی طرح بھارت کی طفیلی ریاست بنانے کے درپے ہیں جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر ان افراد کے چہروں کو بے نقاب کیا جائے جنہوں نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا. ہم ابھی تک مختلف قومیتوں میں بٹ کر آپس میں اپنے اپنے مفاد کی خاطر دست بہ گریبان ہیں۔ہمارے حکمران ایک اور سقوط ڈھاکہ کے انتظار میں ہیں. ہم نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا. افغانستان میں بھارت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں،بلوچستان میں بیرونی مداخلت روز بروز بڑھتی جارہی ہے،روشنیوں کا شہر کراچی لہو رنگ ہے،قبائلی علاقوں کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مقتل گاہ بنا ڈالا ہے اور ہم ہر چیز سے نظریں چرائے کشکول ہاتھوں میں  لئے بھیک مانگنے نکل کھڑے ہوئے ہیں
کیا وه وقت نہیں آیا کہ پاکستان بنتے وقت اللہ سے کئے گئےوعدے کو پورا کیاجائے اور اسلامی اقدار کی جو دھجیاں اڑائی جارہی ہیں انکو روکنے کا کوئی سدباب کیا جائے اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام سیاسی بتون کو توڑ کر اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت میں آجائیں. اس کے علاوہ پاکستان کو مضبوط اور متحد رکھنے کا کوئی اور راستہ نہیں
لیکن ہماری کیفیّت یہ ہے کہ 
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا .................... لوگ ٹھہرے نہيں حادثہ دیکھ کر

جمعہ، 13 دسمبر، 2013

سلام تم پر افق کے اس پار جانے والو

3 comments

دسمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نے پھر دسمبر کی یاد تازہ کر دی ۔ ایک ایسی یاد جو ہمیشہ آنکھوں کو آنسوؤں سے بھر دیتی ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبّت  اور 1971 میں پاکستان کو دولخت ہونے سے بچانے کیلئے پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ " البدر" کے پلیٹ فارم سے اپنی جوانی نچھاور کر دینے والے عبدالقادر ملا کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔جنگی جرائم کے ٹرابیونل نے رواں سال فروری میں عبد القادر ملا کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نےسزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔  
 عبدالقادر ملا کی شہادت کی خبر سے آنکھوں سے بے اختیارآنسو رواں ہیں لیکن ان کے آخری خط کے الفاظ اور ان کے اہلِ خانہ کی ہمّت اور حوصلہ بلاشبہ دلوں کی ڈھارس بندھا رہا ہے  
کہ دل شکستہ نہ ہو اور غم نہ کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو( القرآن )
عبدالقادر ملا کے جیل سے آخری خط کے الفاظ ہیں
عبدالقادرملا
قیدی نمبر---379
سکنہ --کا ل کوٹھری
سنٹرل جیل --ڈھاکہ
مجھے نئے کپڑے فراہم کر دئے گئے ہیں، نہانے کا پانی بالٹی میں موجود ہے،سپاہی کا آرڈر ہے کہ جلد از جلد غسل کر لوں،کال کو ٹھری میں بہت زیا دہ آنا جانا لگا ہوا ہے،ہر سپاہی جھانک جھانک کر جارہا ہے، کچھ کے چہرے افسردہ اور کچھ چہروں پر خوشی نمایاں ہے، ان کا بار بار آنا جانا میری تلاوت میں خلل ڈ ا ل رہا ہے،میرے سامنے سید مودودی کی تفہیم القرآن موجود ہے، ترجمہ میرے سامنے ہے" غم نہ کرو ، افسردہ نہ ہو - تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو " سبحان الله کتنا اطمینان ہے ان کلمات میں ......! میری پوری زندگی کا حاصل مجھے ان آ یات میں مل گیا ہے، زندگی اور موت کے درمیان کتنی سانسیں ہیں یہ رب کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔مجھے اگر فکر ہے تو اپنی تحریک اور ارکنان کی ہے، الله سے دعا ہے کہ وہ ان سب پر اپنا فضل اور کرم قائم رکھے. آمین الله پاکستان کے مسلمانوں اور میرے بنگلہ دیش کے مسلما نوں پر آسانی فرمائے --- دشمنان اسلام کی سازشوں کو ناکام بنا دے(آمین)عشاء کی نما ز کی تیاری کرنی ہے ، پھر شاید وقت ملے نہ ملے؟ میری آپ سے گزارش ہے کہ ہم سب نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس پر ڈٹے رہیں، میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ راستہ سیدھا جنت کی طرف جاتا ہے.
آپ کا مسلمان بھائی ...

عبدالقادرملا

اور ایسے موقعوں پر جب زندگی کا ساتھی اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہو خاتونِ خانہ کیلئے کس قدر مشکل لمحہ ہوتا ہے ایسے موقع پر ان کی اہلیہ کی جانب سے آنے والے بیان نے قرونِ اولٰی کی مسلم خواتین کی یاد تازہ کر دی فرماتی ہیں 
"مجھے فخر ہے کہ میں کسی کافر کی بیوی نہیں، جماعت اسلامی کے ایک رکن کی بیوی ہوں اور رکن ہونے کی وجہ سے ان سے شادی کی تھی اور امید کرتی ہوں کہ وہ آخری وقت تک عہدِ رکنیّت نبھائیں گے،انہوں نے کہا کہ میں جماعت اسلامی کے کارکنان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ احتجاج مین اپنی جانین دینے کی بجائے اپنی صلاحیّتیں اس ملک میں اسلامی نظام کیلئے وقف کر دیں"
اگر ہم شہید ہوجائیں تو بھی ہم کامیاب ہیں اور اگر زندہ رہیں تو بھی جیت ہماری ہے۔ دونوں صورتوں میں ہم ہی فاتح ہیں
 اورآخری ملاقات کے بعد عبدالقادر ملا کے وکیل تاج الالسلام کا کہنا تھا
آج صبح مسٹر عبد القادر ملا کے ساتھ آخری ملاقات کے لیے جیل گئے تھے۔ سزائے موت سے قبل کسی فرد سے آخری " انٹرویو" میری زندگی میں پہلا واقعہ تھا۔ میں پوری طرح متوجہ اور مسحور تھا، اور ذہن میں یہ تھا کہ یہ شخص کل نہیں ہوگا۔ مگر ایک مسکراہٹ کے ساتھ اسلامی تحریک کے ایک سچے رہنما کی طرح انہوں نے اپنے قانونی معاملے پر گفتگو کی۔ اور کہا کہ جن جرائم کا ان پر الزام لگا کر ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا ہے، ان کے متعلق وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔میرے خلاف جعلی گواہ عدالت میں لائے گئے۔ اور من پسند فیصلہ کیا گیا۔ عبدالقادر ملا جو زمانہ طالب علمی میں سید مودودی اور سید قطب سے متاثر تھے۔ انھی کے راستے پر چل کر پھانسی کا سزاوار ہونا اور پھر صبر و ہمت اور استقامت کا مظاہرہ ایک نمونہ تھا۔ ان کا سر بلند تھا اور رہا۔ وہ مطمئن اور پر سکون تھے۔ عبدالقادر ملا آج مجھے ہمالیہ سے بلند محسوس ہوا۔
اللہ عبد القادر ملا کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کے لہو سے بنگلہ دیش کی احیائے اسلام کی تحریک کو توانائی عطا کرے. آمین...

اتوار، 1 دسمبر، 2013

جو دبا سکو تو صدا دبا دو

9 comments

مکہ کی گلیوں میں گرم کوئلوں پر لٹائے گئے خباب بن ارط کی ثابت قدمی کا حوالہ ہو یا پھرعین عالمِ دوپہر میںعرب کی تپتی ہوئی ریت پرلٹائے گئےسیدنا بلال حبشی کی" احد، احد " کی بلند ہوتی صدائیں، ابوجہل کے ظلم وستم کے سامنے ڈٹ جانے والی کمزور سی سیدہ سمیہ کی المناک داستان ہو یا آلِ یاسر کی پامردی کا تذکرہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں حق وباطل کی کشمکش ازل سے جاری ہے اور تا ابد جاری رہے گی۔
یہ کیسے لوگ ہیں جنہیں نہ کسی جابر کاجبر جھکنے پہ مجبور کر سکا نہ کسی ظالم کے ظلم سے ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش آئی۔ یہ نبی اکرمﷺ کے ان جان نثاروں کے پیرو ہیں کہ حق بات پر کٹ جانا جن کا شیوہ رہا ہے اور اس حال میں کہ نیزہ گردن کو چھو رہا ہو اور سوال کرنے والا سوال کرے کہ اے فلاں کیا تم یہ بات پسند کرو گے کہ آج تمہیں رہا کر دیا جائےاور تمہاری جگہ نعوذ باللہ تمہارے نبیﷺ کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جائے تو جواب دینے والے نے کہا تھا کہ واللہ تم نے تو بڑی بات کہ دی میں تو یہ بھی پسند نہیں کروں گا کہ آج مجھے رہا کردیا جائے اور اس کے بدلے میں میرے نبی مہرباں ﷺ کے پاؤں میں کوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔ اور خدا کی قسم یہ تو وہ لوگ ہیں کہ جب نیزہ جسم کے آر پار ہو تو پکار پکار کر کہتے ہیں " ربّ کعبہ کی قسم میں تو کامیاب ہو گیا
مصر کے دوسرے بڑے شہر الاسکندریہ کی عدالت کی جانب سے 14 اسلام پسند لڑکیوں کو 11 ، 11 سال قید کی سنائی جانے والی سزا اور اس موقع پر انٹر نیٹ کے ذریعے میڈیا پر شائع شدہ ان کی تصویر میں ان ہنستے مسکراتے چہروں نے قرونِ اولٰی کی مسلم خواتین کی یاد تازہ کر دی ہے، ان کمسن بچیوں پر الزام عائید کیا گیا ہے کہ یہ لڑکیاں 31 اکتوبر کو سڑکوں پر مظاہرے کی ترغیب دینے اور دوران مظاہرہ مرسی کے لبرل و سیکولر م پر پتھر پھینکنے اور چاقو چلانے میں ملوث ہیں۔ لیکن حقیقت میں لبرل و سیکولر غنڈے فوج کی مدد سے اسلام پسندوں کے پر امن مظاہروں پر حملہ آور ہونے اور خون کا بازار گرم کرنے میں ملوث ہیں 
اسی مقدمہ میں الاخوان المسلمون کے 6 دیگر مرد رہنماؤں کو بھی 15 ، 15 سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ سزا پانے والوں کے پر عزم اور شادماں چہرے وقت کے فرعونوں سے پکار پکار کر کہ رہے ہیں
جو دبا سکو تو صدا دبادو
جو بجھا سکو تو دیا بجھا دو
صدا دبے گی تو حشر ہو گا 
دیا بجھے گا تو سحر ہو گی

ہفتہ، 23 نومبر، 2013

سو جوتے بھی اور سو پیاز بھی

3 comments



ایک کے بعد ایک اور حملہ 
امریکہ نے ہنگو میں ڈرون حملہ کر کے زخمی مذاکرات کا کام تمام کر دیا
ایک دن پہلے ہی مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز کا بیان اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کی چیختی چنگھاڑتی خبروں کی زینت بنا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کروادی۔
لیکن ابھی اس بیان کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ امریکہ نے کچھ آگے بڑھ کر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ہنگو میں ایک مدرسے کو نشانہ بنا ڈالا۔ جس کے نتیجے میں پانچ افراد کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔گویا امریکہ نے سر تاج عزیز کے منہ پر "طمانچہ" رسید کر کے "رسید" لکھ دی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے
 وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف فرماتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم رسمی احتجاج کرنے والے دوغلے لوگ نہیں اور یہ بات امریکہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت ایسی نہیں کہ کہے کچھ اور کرے کچھ۔ ہم ڈرون حملے بند کرنے کی بات دل سے کرتے ہیں،میاں صاحب نے کہاکہ ہم نے اوباما سے اس کے سامنے بیٹھ کر ڈرون حملوں کے خلاف بات کی کہ ڈرون حملے کسی صورت قابل قبول نہیں یہ حملے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے سلالہ چیک پوسٹ سے ایبٹ آباد آپریشن اور وزیرستان میں طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود پر ڈرون اٹیک سے ہنگو حملے تک ہم وہ لوگ ہیں جو سو پیاز بھی کھاتے ہیں اور سوجوتے بھی۔

جمعرات، 14 نومبر، 2013

یوم عاشورہ کی فضیلت احادیث اور تاریخ کے آئینے میں

4 comments

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالٰی ہے
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهورِ‌ عِندَ اللَّهِ اثنا عَشَرَ‌ شَهرً‌ا فى كِتـٰبِ اللَّهِ يَومَ خَلَقَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ
 مِنها أَر‌بَعَةٌ حُرُ‌مٌ ۚ ذ‌ٰلِكَ الدّينُ القَيِّمُ ۚ فَلا تَظلِموا فيهِنَّ أَنفُسَكُم.﴿٣٦ ﴾ سورة التوبة
"بے شک شریعت میں مہینوں کی تعداد ابتداءِ آفرینش سے ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں بارہ ہے ۔ ان میں چارحرمت کے مہینے ہیں۔ یہی مستقل ضابطہ ہے تو ان مہینوں میں(قتالِ ناحق) سے اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو" 
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایامِ تشریق میں مقامِ منیٰ میں حجة الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : لوگو! زمانہ گھوم پھر کر آج پھر اسی نقطہ پر آگیا ہے جیسا کہ اس دن تھا جب کہ اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیق فرمائی تھی۔ سن لو، سال میں بارہ مہینے ہیں جن میں چارحرمت والے ہیں، وہ ہیں : ذوالقعدہ، ذوالحجہ ، محرم اور رجب ۔"
حضرت قتادہ نے فرمایا: "ان مہینوں میں عمل صالح بہت ثواب رکھتا ہے اور ان مہینوں میں ظلم وزیادتی بہت بڑا گناہ ہے ۔"
ماہِ محرم میں روزوں کی فضیلت کے متعلق اگرچہ عمومی طور پر صحیح احادیث وارد ہیں لیکن خصوصی طور پر 'یومِ عاشوراء' یعنی دس محرم کے روزے کے متعلق کثرت سے اَحادیث آئی ہیں جن سے اس دن کے روزہ کی فضیلت واضح ہوتی ہے ۔ اس سلسلہ میں وارد احادیث ملاحظہ فرمائیں :
ابوقتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشوراء کے روزہ کی فضلیت کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ "اس سے ایک سالِ گذشتہ کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔" (مسلم : ج۱ ،ص ۳۶۸)
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو قومِ یہود کو عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ جناب رسالت ِمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ کون سا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ بڑاعظیم دن ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ان کی قوم کو نجات دی تھی اور فرعون اور اس کی قوم کوغرق کیا تھا۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام اس دن شکر کا روزہ رکھا پس ہم بھی ان کی اتباع میں اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تمہاری نسبت حضرت موسیٰ کے زیادہ قریب اورحقدارہیں۔ سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روزہ رکھا اور صحابہ کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا"۔ (مشکوٰة المصابیح، ص:۱۸۰
ایک روایت میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ" یہود دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں۔ تم ان کی مخالفت کرو اور اس کے ساتھ نو تاریخ کا روزہ بھی رکھو"۔
یوم عاشورہ یعنی دس محرم کے حوالے سے بہت سی باتیں مشہور ہیں مثلاً
یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت آدم کی توبہ قبول کی۔
یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت ادریس  کو بلند درجات عطا فرمائے۔
یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت ابراہیم کو آتش نمرود سے نجات دی۔
یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت نوح کو کشتی پر سے اتارا۔
یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت موسی پر تورات نازل کی ۔
یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے اسمٰعیل  کو ذبح کرنے کی بجائے دنبے کا فدیہ دیا تھا۔
اس دن اللہ نے حضرت یوسف  کو جیل سے چھٹکارا دلایا تھا۔
اسی دن اللہ نے حضرت یعقوب  کو ان کی قوتِ بینائی واپس کی تھی۔
 اس دن اللہ نے حضرت ایوب سے مصیبتیں اور پریشانیاں دور کی تھیں۔
اسی دن اللہ نے حضرت یونس  کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا تھا۔
اسی دن اللہ نے دریاکو چیر کر بنی اسرائیل کے لیے راستہ بنایا تھا۔
اسی دن حضرت موسی نے دریائے نیل عبور کیا تھا۔
اسی دن حضرت یونس کی قوم کو توبہ کرنے کی توفیق ہوئی تھی۔

 لیکن یہ سب باتیں کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں سوائے اس کے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم کوفرعون کے ظلم وستم سے نجات ملی۔
سیّدنا حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ ان کو شہادت کیلئےایک ایسا دن نصیب ہواجوتاریخِ عالم میں پہلے ہی سے مقدس اور بابرکت گردانا جاتا تھا۔

بدھ، 6 نومبر، 2013

نیا سال مبارک

1 comments

اسلامی کیلنڈر کے 1434 برسوں میں جہاں طائف کے بازار اور شعبِ ابی طالب کی گھاٹیاں ہیں ، وہیں بدر و احد کے معرکے بھی ہیں اور حدیبیہ کی صلح و مکہ کی فتح بھی
غرناطہ کا سقوط اور ڈھاکہ کے رستے زخم بھی ہیں تو اعلائے کلمۃ اللہ کی تحریکوں کا عروج بھی،
دشمنوں کی سازشوں کے جال بھی ہیں تو اپنوں کی باہمی چپقلش سے کھنڈرات میں تبدیل ہوتی آبادیاں بھی،
کہیں عرب بہار کے خوشگوار جھونکے ہیں تو کہیں میدان الرابعہ میں بہنے والا معصوم لہو
کہیں مایوسی کے گہرے بادل ہیں تو کہیں امید وبیم کی رم جھم بارش
لیکن
عروج وزوال کی اسی داستان کا نام زندگی ہے
آئیے رب کے حضور دعاؤں کیلئے اپنے ہاتھوں کو بلند کیجئے
اے ہمارے رب 1435ھ کو امّت مسلمہ کیلئے عروج ،اقتدار اور خوشحالی کا سال بنا دے آمین
آپ سب کو میری طرف سے نیا اسلامی سال مبارک

منگل، 5 نومبر، 2013

مرادِ رسول ﷺ

2 comments

نبی اکرم ﷺ بیت اللہ کے طواف کے دوران مقامِ ابراہیم پر پہنچے تو دیکھا حضرت عمر فاروقؓ سر جھکائے کچھ سوچ رہے ہیں، قائد ﷺ نے اپنے جان نثارؓ پوچھا کیا سوچتے ہو عمرؓ !

جواب ملا جب میں طوافِ کعبہ کے دوران مقامِ ابراہیم پر پہنچتا ہوں تو مجھے براہیمی سجدوں کی یاد آنے لگتی ہے اور میرا بھی جی چاہتا ہے کہ حضرت ابراہیم کی پیروی میں سجدہ ریز ہو جاؤں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تو چاہتا ہے عمرؓ تو کیا میرا جی نہیں چاہتا ۔۔۔۔ ! میرے تو دادا تھے ابراہیم ،جس طرح میں نے تجھے اپنے رب سے مانگا اسی طرح میرے دادا نے مجھے اپنے رب سے مانگا تھا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا آپ ﷺ بھی اگر یہی چاہتے ہیں تو پھر یہ قانون بن گیا ناں۔۔! آپ ﷺ نے فرمایا نہیں عمرؓ قانون فرش پر نہیں عرش پر بنا کرتے ہیں۔ اور پھر عرش سے جواب آیا 
وإذ جعلنا البيت مثابة للناس وأمنا واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى
اے پیغمبر قیامت تک اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دے دیجئے کہ جو بھی زائرِ حرم میرے گھر کے طواف کو آئے میرے عمر کے شوقِ عبادت کی تکمیل کیلئے مقامِ ابراہیم کو اپنی سجدہ گاہ بنا لے۔ اس وقت سے سجدے شروع ہیں آج بھی ہو رہے ہیں اور اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک زائرینِ حرم بیت اللہ کے طواف کو آتے رہیں گے۔ 
سیّدنا عمرؓ جنہیں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے رب سے مانگا تھا خلیفہ دوم کے طور پر ایسا طرزِ حکمرانی قائم کیا کہ تاریخ جس کی مثال دینے سے  قاصر ہے
ایک رات وہ مدینہ کی گلیوں سے گزرتے ہوئے ابھی گھر جانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ دور انہیں آگ جلتی نظر آئی، یہ سوچ کر کہ شاید کوئی قافلہ ہے جس نے شہر کے باہر پڑاؤ ڈالا ہے اس کی خبر گیری کیلئے الاؤ کی جانب چل پڑے قریب جانے پر معلوم ہوا کہ ایک خیمہ ہے اور اس کے اندر سے ایک عورت کے کراہنے کی آواز آرہی ہے قریب ہی خیمے کے باہر ایک  شخص ضروریاتِ زندگی کا سامان کرنے کیلئے آگ جلائے ہوئے ہے۔ سلام کے بعد اس شخص سے پوچھا کہ بھلے مانس تم کون ہو اور یہ خیمے کے اندر سے آنے والی آواز کا کیا ماجرا ہے۔اس نے بتایا کہ ایک غریب الدیار شخص ہوں اور امیر المؤمنین  کی سخاوت کا چرچا سن کر مدینہ آرہا تھا کہ رات ہوگئی اور میری بیوی جو حمل سے تھی اسے دردِ زہ شروع ہوگیا آپ نے اس کی بات سن کر پوچھا کیا تمہاری بیوی کے پاس کوئی دوسری عورت موجود ہے؟
 جواب ملا کوئی نہیں
آپ  فوراً گھر لوٹے اور اپنی بیوی حضرت امّ کلثوم بنت علی  کو ساتھ لے کر واپس اس شخص کے ہاں پہنچے اپنی بیوی کو اس عورت کے پاس اندر خیمے میں بھجوایا اور خود اس شخص کے پاس بیٹھ کر آگ جلانے اور اپنے گھر سے لائے ہوئے سامان سے کھانا پکانے میں مشغول ہو گئے۔ اب وہ شخص سخت غصّے میں امیرالمؤمنین  کو برا بھلا کہ رہا تھا کہ رات کو قافلے شہر میں داخل نہیں ہو سکتے جس کی وجہ سے اسے اور اس کی بیوی کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔اسی اثناء میں خیمے سے بچے کے رونے کی آواز نئے مہمان کی آمد کا اعلان کرتی ہے اور سیّدہ امّ کلثوم  خیمے سےآواز دے کر کہتی ہیں امیرالمؤمنین  اپنے بھائی کو بیٹے کی خوشخبری دیجئے۔
اور اب وہ شخص کہ جو تھوڑی دیر پہلےامیر المؤمنین کو سخت سست کہ رہا تھا اسےجب معلوم ہوا کہ اس کے پاس بیٹھا ہوا شخص کوئی اور نہیں خود خلیفۃالمسلمین  ہیں تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ امیر المؤمنین نے مسافر کی پریشانی کو دیکھ کر تسلی دی کہ میں تمھارا خادم ہوں، پریشان کیوں ہوتے ہو؟ اطمینان رکھو۔ امیر المؤمنین نے دیگچی اٹھائی اور دروازہ کے قریب آ کر رکھ دی ،اپنی اہلیہ کو آواز دی کہ یہ لے جاؤ اور اپنی بہن کو کھلاؤ۔
سیدنا عمر فاروق  تاریخ اسلام بلکہ تاریخِ انسانی کا وہ روشن کردار ہیں جن کی مثال رہتی دنیا تک پیش نہ کی جاسکے گی 

جن کے بارے میں جناب رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا جس راستے پر عمر ہو وہاں سے شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔" [صحیح بخاری، ج 2 ، رقم الحدیث 880 ]
صحابی رسول ﷺ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک مجوسیغلام تھاجس کا نام ابو لولو فیروز تھا۔ یہ مجوسی ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے مالک کی شکایت لے کر آیا کہ اس کا مالک مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس سے روزانہ چار درہم وصول کرتے ہیں آپ اس میں کمی کرا دیجئے۔ امیر المؤمنین نے فرمایا تم بہت سے کام کے ہنرمند ہو تو چار درہم روز کے تمہارے لئے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ جواب سن کر وہ غصّے میں آگ بگولہ ہو گیا اور آپکو قتل کرنے کا مکمل ارادہ کر لیا اور اپنے پاس ایک زہر آلود خنجر رکھ لیا۔ 26 ذی الحجہ 23ھ بروز بدھ آپ نماز فجر کی ادائیگی کے لئے مسجد نبوی میں تشریف لائے۔ جب آپ نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے تو اسلام دشمن مجوسی آپ پر حملہ آور ہو گیا اور اتنا سخت وار کیا کہ آپ بُری طرح زخمی ہو گئے اور تین دن کے بعد دس سال چھ ماہ اور چار دن مسلمانوں کی خلافت کے امور انجام دینے کے بعد یکم محرم الحرام 23ھ کو جامِ شہادت نوش فرمایا۔ اور نبی اکرم ﷺ اور خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق  کے پہلو میں دفن ہوئیے

سلامتی ہو عمر ابنِ خطاب رضی اللہ عنہ پر کہ جن کی مثال تاریخ کبھی پیش نہ کر سکے گی




ہفتہ، 2 نومبر، 2013

مکہ کا شہزادہ

8 comments

جنگ ختم ہو چکی تھی مسلمان فتح سے ہمکنار ہو چکے تھے قیدیوں کو گرفتار کر کے ان کی مشکیں کسی جارہی تھیں کہ ان کا گزراپنےبھائی کے پاس سے ہوا جو قیدی بنا لیا گیا تھا۔ایک مسلمان انہیں باندھ رہا تھا اسےمخاطب کرکے فرمایادیکھواسےاچھی طرح باندھنا اس کی ماں بڑی مالدارعورت ہے اس کی رہائی کے بدلے میں اچھی خاصی دولت ملے گی۔ جب بھائی نے سنا تو کہنے لگا تم کیسے بھائی ہو جو ایسی باتیں کر رہے ہو فرمایا میرے بھائی تم نہیں بلکہ وہ ہے جو تمہیں باندھ رہا ہے 
اپنے بھائی سےاس انداز میں بات کرنے والی یہ عظیم شخصیت کون ہیں آئیے ان سے ملاقات کرتے ہیں 
مکے میں کوئی شخص ان سے زیادہ حسین و خوش پوشاک اور نازو سے نعمت سے نہیں پلا تھا۔ ان کے والدین کو ان سے شدید محبت تھی، خصوصاً ان کی والدہ خناس بنت مالک نے اپنے مال ودولت کے بل بوتے پر اپنے جگر گوشے کو بہت ناز و نعم سے پالا تھا۔ وہ اپنے زمانہ کے لحاظ سے عمدہ سے عمدہ پوشاک پہنتے اور لطیف سے لطیف خوشبو استعمال کرتے امراء کے زیر استعمال حضرمی جوتا جو اس زمانے میں صرف امراء کے لئے مخصوص تھا وہ ان کے روزمرہ کے کام آتا تھا اور ان کے وقت کا اکثر حصہ آرائش و زیبائش میں بسر ہوتا۔ وہ جس گلی سے گزرتے وہاں سے اٹھنے والی خوشبو اس بات کی گواہی دیتی کہ مصعب یہاں سے گزر گیا ہے، جو کپڑا ایک بار پہن لیتے دوبارہ پہننے کی نوبت نہ آتی کہ ان کے ہاں نت نئے کپڑوں کی کوئی کمی نہ تھی
اللہ تعالیٰ نے جہاں انہیں اتنی نعمتوں سے نوازا تھا وہاں ان کے دل کو بھی نہایت صاف و شفاف بنایا تھا جس پر توحید کا ایک عکس پڑنے کی دیر تھی اور پھر توحید کا جھنڈا اس انداز میں تھاما کہ اس نے انہیں ہر چیز سے بے نیاز کر دیا اور وہ زندگی کے حقیقی مقصد کو جان کر اس کے حصول میں لگ گئے اور اب حال یہ تھا کہ نرم و نازک لباس میں ان کے لئے کوئی جاذبیت نہ رہی۔ انواع و اقسام کے کھانے ان کی نظروں میں ہیچ ہو گئے، نشاط افزا عطریات کا شوق ختم ہو گیا اور دنیاوی عیش وعشرت سے بے نیاز ہو گئے۔ اب ان کے سامنےصرف ایک ہی مقصد تھا۔ یہ وہ مقصد تھا جسے جلوۂ توحید نے ان کے دل میں روشن کیا اور تمام فانی ساز و سامان سے بے پرواکر دیا تھا۔
 جب ان کے مشرف بہ اسلام ہونے کی خبر ان کی والدہ اور ان کے اہلِ خاندان کو ہوئی۔ توپھر کیا تھا ماں اور خاندان والوں کی ساری محبت نفرت میں بدل گئی، سارے ناز و نعم ختم ہو گئے اور ’’مجرم توحید‘‘ کو مصائب و آلام کے حوالے کر دیا گیا۔ اہل خاندان کے ظلم وستم سے تنگ آکر جناب رسالت مآب ﷺ کےحکم پر حبشہ کی طرف ہجرت کی، ہجرت کے مصائب نے ان کی ظاہری حالت میں نمایاں فرق پیدا کر دیا تھا۔ اب نہ وہ رنگ باقی رہا تھا اور نہ وہ روپ چہرے پر دکھائی دیتا تھا، حبشہ میں کچھ ہی دنوں بعد اہلِ مکہ کی اسلام قبول کرنے کی افواہ سن کر وطن کو واپس لوٹ آئے۔
اسی اثنا میں آفتابِ اسلام کی شعاعیں مکہ سے نکل کریثرب کی وادی میں پہنچ چکی تھیں اور وہاں کا ایک معزز طبقہ دائرہِ اسلام میں داخل ہو گیا تھا۔وہاں کے مسلمانوں نے  دربارِ نبوت میں درخواست بھیجی کہ ہماری تعلیم و تلقین پر کسی کو مامور فرمایا جائے۔ سرکارِ دوعالم ﷺ نے اس درخواست کے جواب میں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا انتخاب فرمایا اور ضروری ہدایات دے کر انہیں یثرب کی طرف روانہ کر دیا،جہاں انہوں نےتعلیمِ قرآن اور اشاعتِ اسلام کے سلسلے میں جو بیش بہا خدمت انجام دیں اور جس حسن و خوبی کے ساتھ وہاں کی فضاء کو اسلام کے لئے ہموار کیا وہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اسی دعوت وتحریک اور محنت کے نتیجےمیں نبی کریمﷺ نےمکہ سے ہجرت کر کے یثرب کو اپنا مسکن بنایا جس کی بناء پریثرب کو مدینۃ النبی ﷺ  کا بلند مقام عطا ہوا۔
2 ہجری کو بدر کا میدان کارزارگرم ہوا تو میدانِ فصاحت کی طرح یہاں بھی آپ اس شان سے نکلے کہ مہاجرین کی جماعت کا سب سے بڑا پرچم ان کے ہاتھ میں تھا، ان کے بھائی کی گرفتاری کا معاملہ اسی غزوۂ بدر میں پیش آیا تھا۔
بدر کے بعد احد کے میدان میں جب داد شجاعت دینے کی باری آئی تو ایک بار پھرعلم جہاد آپ ہی کے ہاتھ میں تھا۔اور اس علم کو اس انداز میں سربلند رکھا کہ جب  مشرکین کے ایک شہسوار ابن قمیۂ نےتلوار کے وار سےآپ کا داہنا ہاتھ شہید کر دیا تو  فوراً بائیں ہاتھ میں علم کو پکڑ لیا۔ اس وقت ان کی زبان پر یہ آیت جاری تھی۔ 

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ۔۔۔۔۔۔۔ (آل عمران)  

اور پھر جب بایاں ہاتھ کٹ گیا تو دونوں بازوؤں کا حلقہ بنا کر پرچم کو تھام لیا اور اسے سرنگوں نہ ہونے دیا اور جب دشمن کے نیزے کے وار سے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جامِ شہادت نوش کیا تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بھائی ابو الدومؓ بن عمیر آگے بڑھے اور علم کو سنبھالا دے کر پہلے کی طرح بلند رکھا اور آخر وقت تک شجاعانہ مدافعت کرتے رہے۔
مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالٰی عنہ قبولِ اسلام سے قبل جس گلی سے گزرتے وہاں سے اٹھنے والی خوشبو اس بات کی گواہی دیتی کہ مصعب یہاں سے گزر گیا ہے، جو کپڑا ایک بار پہن لیتے دوبارہ پہننے کی نوبت نہ آتی کہ ان کے ہاں نت نئے کپڑوں کی کوئی کمی نہ تھی،وہی مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالٰی عنہ آج اس حال میں اپنے رب کے حضور حاضر ہو رہے تھے کہ ان کے کفن کیلئے صرف ایک چادر میسر تھی۔ سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے، پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر ننگا ہو جاتا بالآخر اس حال میں دفن ہوئے کہ  سر ڈھانپ دیا گیا  اور پاؤں پر گھاس پھونس ڈال دی گئی۔
 آنحضرت ﷺ حضرت مصعبؓ کی لاش کے قریب تشریف لائےاور یہ آیت تلاوت فرمائی:۔

 مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ 

(اہل ایمان میں سے چند آدمی ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے جو عہد کیا تھا اس کو سچا کر دکھایا)
پھر لاش سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’میں نے تم کو مکہ میں دیکھا تھا جہاں تمہارے جیسا حسین و خوش پوشاک کوئی نہ تھا۔ لیکن آج دیکھتا ہوں کہ تمہارے بال الجھے ہوئے ہیں اور جسم پر صرف ایک چادر ہے۔ بے شک اللہ کا رسولﷺگواہی دیتا ہے کہ تم لوگ قیامت کے دن بارگاہِ خداوندی میں حاضر رہو گے۔‘‘ 
رضی اللہ عنھم ورضو عنہ
اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے

جمعرات، 15 اگست، 2013

یہ کس کا لہو ہے کون مرا

5 comments
ٹیلی ویژن کی سکرین پر جلتی لاشیں،گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور آنسو گیس کے دھوئیں نے ایک سوگوار منظر طاری کر رکھا تھا۔ معصوم لاشے،تڑپتے بدن، جلتے خیمے،نہتے مردوزن کے مقابل جدید ہتھیاروں سے لیس فوجی اپنے نشانے آزماتے رہے. خون کی ندیاں بہتی رہیں ۔ بچے بوڑھے اور جوان مردو خواتین کٹ کٹ کے گرتے رہے ۔ یہ منظر کشمیر ، افغانستان یا فلسطین کا نہیں بلکہ مصر کے شہر قاہرہ کی مشرقی سمت میں واقع میدان رابعہ العدویہ کا ہے ۔ جہاں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے مظاہرین پر مصر ہی کی فوجی جنتا کے "شیر دل" جوانوں نے کل صبح سویرے حملہ آور ہو کر 2200 سے زائد معصوم اور مسلمانوں کو شہید کر دیا۔لیکن حیرت کی بات ہے کہ ملالہ یوسف زئی پر حملہ ہویا کسی مختاراں مائی کے ساتھ زیادتی ہو جائے تو پوری دنیا میں ہاہا کار مچ جاتی ہے ۔

 مصر کے دارالحکومت میں دن دہاڑے 2200 سے زائد لوگ گولیوں سے بھون دئیے گئے زمین ان کے خون سے گل وگلزار بنا دی گئی

ننھے منے بچے والدین کے ہاتھوں میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔


بہنیں اپنے بھائیوں کی باہوں میں دم توڑ گئیں۔

مسجدیں تاخت وتاراج کر دی گئیں

لیکن
 کسی جمہوریت کے چمپئن کے ماتھے پر کوئی بل نہیں پڑا کسی انسانی حقوق کے ٹھیکیدار کی آنکھوں میں آنسو نہیں چمکے۔ ایک ملالہ کے زخمی ہو جانے پر پوری دنیا کا میڈیا چیخ اٹھا لیکن کتنی ہی معصوم ملالائیں قاہرہ کے اس میدان میں خون میں لت پت ہوگئیں۔ کوئی آواز بلند نہیں ہوئی ۔ کوئی آسمان نہیں ٹوٹا کسی اوباما کسی بان کی مون کے کان پر کوئی جوں تک نہیں رینگی ۔ کیا صرف اس لئے کہ شہید ہونے والے اپنے سروں کو صرف یک رب کے سامنے جھکاتے تھے۔ کیا اس لئے کہ یہ شہداء رب کی زمین پر ر ب کے نظام کا جھنڈا بلند کئے ہوئے تھے ۔کیا اس لئے کہ ان لوگوں نے رب کی بجائے امریکہ کی خدائی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ اور کیا اس لئے کہ ان لوگوں نے فلسطین کے مظلوموں کے درد کا درماں کیا تھا۔
قاہرہ کی سڑکوں اور گلیوں بازاروں میں بہنے والا یہ معصوم لہو پکار رہا ہے ۔ اے امت مسلمہ کے بے غیرت حکمرانوں کب تک تم فرعونوں کے ساتھی بنے رہو گے۔ کیا مصر کی سڑکوں پر بہنے والے لہو کا رنگ کوئی اور ہے. کیا جن لوگوں کا خون بہایا گیا وہ مسلمان نہیں تھے۔ تمہارے زبانوں پر تالے کیوں ہیں۔ بولو جواب دو
یہ کس کا لہو ہے کون مرا

کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا​
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہو گا​
سحر کی خوشیاں منانے والو، سحر کے تیور بتا رہے ہیں​
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہو گا​
سکوتِ صحرا میں بسنے والو، ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو​
جو آج کا دن سکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہو گا​

بدھ، 14 اگست، 2013

لہلہاتی رہے یہ دھرتی

2 comments

لفٹی چاچاہمارے شہر میں کب آیامجھے یہ تو معلوم نہ ہو سکا لیکن ا س کے ہاتھوں کے بنے دہی بڑھے بچوں اور بڑوں کی مرغوب غذا تھی۔سکول کے راستے میں بنی ا س کی دکان ہمیشہ ہمارے قدموں کی زنجیر بن جاتی اور بڑی بے چینی سے ہم بریک ٹائم کا انتظار کرتے کہ کب ہم لفٹی چاچاکے ہاتھوں کے بنے چٹ پٹے دہی بڑھے کھانے جا پہنچیں۔لفٹی چاچایوں تو بڑا ہنس مکھ بندہ تھا، من کا سچا ،سبھی سے پیار کرنے والا۔لیکن جانے اسے کبھی کبھار کیا دورہ پڑ جاتاکہ جلدی کا شور مچانے والے بچوں پر برہم ہو جاتا۔اور اس دن تو حد ہی ہو گئی جب اس کی دکان کے باہر لگی رنگ برنگی جھنڈیوں کے بیچوں بیچ لہراتی پاکستانی جھنڈے کے رنگوں پر مشتمل جھنڈیوں کو بچوں نے توڑ کر ساتھ لے جانے کی کوشش کی تو اس نے ایک بچے کویہ کہتے ہوئے تھپڑ دے مارا کہ تم میرے وجود کے ٹکڑے کر رہے ہو۔اس وقت تو اس کی وجود والی بات میری سمجھ میں نہ آسکی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب عمر کی منزلیں طے کرتے ہوئے جب میں نے سکول سے کالج اور پھر عملی زندگی میں قدم رکھا تو ایک دن ماضی کو یاد کرتے ہوئے میں لفٹی چاچا کی دکان پر جا بیٹھا۔چاچے نے بہت محبت سے دہی بڑھے کھلائے اور گاہکوں کو نمٹانے کے ساتھ ساتھ میرے ساتھ گپ شپ بھی لگاتا رہا۔میں نے موقع دیکھتے ہوئے لفٹی چاچا سے اس بچے کو تھپڑ مارے کا قصّہ چھیڑ دیا تو یکدم لفٹی چاچا کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگا بیٹا اس لڑکے نے پاکستانی پرچم کو کھینچا تو مجھے ایسے لگا کہ اس نے میرے جسم سے میرے روح کو کھینچ لیا اور غصّے میں آکر میں نے اسے تھپڑ دے مارا۔کاش تم لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ پاکستان ہم نے کتنی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا۔اس دھرتی کیلئے تو میرا س کچھ چھن گیا  میرا پاکستان جس کی چھاتی پر رواں دواں دریا اس کے بیٹوں کے خون سے سرخ کر دئے گئے۔ اس کی آغوش سے پھوٹتی رحمتوں میں اس وطن کی بیٹیوں کی تار تار عصمتوں کی خوشبو رچی بسی ہے' اس کے آنگن میں رقص کرتی ندیاں' اس کے پہاڑوں میں اچھلتے کودتے چشمے' اس کے میدانوں میں شاداں و فرہاں پری رو درخت' زیبا بدن سبزے' نورنگ پھول' پھیلتی سمٹتی روشنیاں' رشک مرجاں شبنمی قطرے' لہلہاتی فصلیں' مسکراتے چمن' جہاں تاب بہاریں اور گل پرور موسم اپنے پیچھے قربانیوں کی ایک لازوال داستان لئے ہوئے ہیں۔ بیٹا یہ میرا ملک صرف ایک ملک ہی نہیں بلکہ یہ میری تقدیر بھی ہے۔ یہ میری داستان بھی ہے' یہ میرا ارماں بھی ہے۔ میرے وجود کی مٹی میں وہ دلکشی نہیں جو جاذب نظر اور دلفریبی اس کی خاک میں ہے۔ یہ پھولوں کی دھرتی اور یہ خوشبوؤں کا مسکن ہی اب میرا سب کچھ ہے یہی میرا گھر بار یہی میرا خاندان اور یہی میری داستاں ہے۔ اس کے سینے سے اٹھنے والے مسائل کے ہوکے میرے دل میں چھبنے والی سوئیاں ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی طرف کوئی ٹیڑھی نظر سے دیکھے تو گویا وہ آنکھ نہیں' میرے جسم میں پیوست ہونے والا تیر ہوتا ہے۔ یہ تو وہ دھرتی ہےکہ جس کیلئے میں نے سب کچھ قربان کر دیا۔ اورصرف تن تنہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے پیچھے لاشوں،اور زخموں کی ایک داستان چھوڑ کے پاکستان چلا آیا۔
چاچا پاکستان کے قیام اپنے گھر بار کے لٹنے، اپنے والدین اور بھائیوں کی شہادت اور بہنوں کی لٹتی عزت کی کہانی سناتا رہا اس کی آنکھیں ساون کی طرح برستی رہیں۔ پاکستان کی بنیادوں میں جس کی بہنوں کی تار تار عصمتیں اور جس کے والدین اور بھائیوں کا لہو ہو اس سبز ہلالی پرچم کو کیسے سرنگوں ہونے دے سکتا ہے۔

بدھ، 7 اگست، 2013

یہی پیغامِ عید ہے

3 comments
عید الفطر کی مبارک ساعتیں لمحہ بہ لمحہ قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہیں۔اللہ رب العزت بندوں کومزدوری دینے میں قطعی دیر نہیں لگاتے۔ ادھر ان کی ایک مہینے کی تربیت کے مراحل ختم ہوئے، ڈیوٹی پوری ہوئی اور اِدھر عید الفطر، انعام یایوں کہیے کہ مزدوری کی شکل میں ہمارے ذہن وفکر پر مسرتوں کا نغمہ گانے لگی۔یہ عید واقعتاً ان لوگوں کے لیے عید ہے جو رمضان کے فیوض و برکات سے فیض یاب ہوئے۔عیدکا دن ان روزہ داروں کے لیے خوش خبری کا دن ہے جنہوں نے اس ماہ مبارک میں عبادت کی، اپنے رب کو راضی کیا اور اس کے بدلے میں اس کی رضا بھی پائی اور اس ماہ کی برکات و فضائل سے فیض یاب ہوئے۔ انہوں نے اپنی عبادات اور روزوں سے اللہ رب العزت کی رحمت و مغفرت کو اپنے لیے برحق بنایا اور اپنے لیے ”جہنم سے خلاصی“ کا ایک بہت عمدہ پروانہ حاصل کیا۔ رسول کریمﷺ کا ارشادہے:”جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام (آسمانوں پر) لیلةالجائزہ (انعام کی رات) سے لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ رحمن و رحیم اپنے فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے۔ وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں، راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جسے جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں:’اے محمدﷺ کی امت! اس کریم رب کی (بارگاہ) کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور معاف فرمانے والا ہے۔‘
پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے:’کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کر چکا ہو؟
وہ عرض کرتے ہیں:’ہمارے معبود اور ہمارے مالک!اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے۔‘
اس پر اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:’اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ رہوکہ میں نے انہیں رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کر دی۔‘
پھر وہ اپنے تمام بندوں سے مخاطب ہوکر ارشاد فرماتا ہے:’اے میرے بندو! مجھ سے مانگو، میری عزت و جلال کی قسم! آج کے دن اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے، عطا کروں گا۔ اور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے، اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا۔ میری عزت کی قسم! جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا (انہیں چھپاتا رہوں گا) میری عزت و جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں ( اور کافروں) کے سامنے رسوا نہیں کروں گا۔ بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاﺅ، تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔‘
اسلام دین فطرت ہے اسکی یہی خوبی اسکو دوسرے مذاہب سے ممتاز کر تی ہے۔ اسلام سے پہلے عربوں کی زندگی میں تہواروں کو اک خاص اہمیت حاصل تھی۔ مگر ان کی افادیت سوائے عیش و عشرت، دولت کی نمود و نمائش کے سوا کچھ نہ تھی۔ مگر اسلامی تہواروں نے نہ صرف عرب رسوم و رواج کی جگہ لے لی بلکہامّتکی تربیت پر ایسے نقوش چھوڑے کے ایثار و قر بانی انکی زندگیوں کا نمونہ بن گیا۔عید خوشیاں بانٹنے کا نام ہے ، آنسو پونچھنے کا نام ہے ۔اپنی خوشیوں میں ان لوگوں کو نہ بھول جائیں جن کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ہو سکتا ہے ساتھ والے گھر ، ساتھ والی گلی ، ساتھ والے محلے میں عید کسی کے لئے امتحان بن رہی ہو۔ہو سکتا ہے کوئی غریب ویران آنکھوں سے نئے کپڑوں کی فرمائش کرتے اپنے بچوں کو دیکھ رہا ہو،ہو سکتا ہے اس عید پہ کوئی سفید پوش اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کی ناکام کوشش میں ہو،ہو سکتا ہے کہیں کوئی یتیم بچہ حسرت بھری نظروں سے اپنے چاروں طرف عید کے ہنگاموں کو دیکھ رہا ہو۔عید کے اس پر مسرّت موقع پر ان کو بھی یاد رکھئے ۔آپ کی ایک چھوٹی سی کوشش کسی کے چہرے پر خوشیوں کی بہار بن سکتی ہے ۔
بس یہی پیغامِ عید ہے اور یہی حقیقی عید ہے






منگل، 30 جولائی، 2013

ایک خط یہ بھی ہے

5 comments

"گاما خان" نام تھا ان کا،نام یہی تھا یا شاید عرف العام ہو گیا بہر حال میں نے ان کے شناختی کارڈ پر بھی یہی نام لکھا دیکھا۔ اس دورمیں شاید ایسے نام رکھنے کا رواج ہوتا ہو گا دبنگ قسم کا بندہ تھابے باک اور دلیر۔ ابھی نو عمری کی دہلیز پار کی ہی ہو گی کہ انگریز سرکار نے اسے کسی "جرم" کی پاداش میں سزا سنا ڈالی۔ سزا کا خوف تھا یا اس کی دیدہ دلیری معاملہ جو کچھ بھی رہا ہوایک دن "گا ما خان" جیل کے روشن دان کو توڑ کر فرار ہو گیاانگریز حیران تھا کہ یہ نو عمر لڑکا کیسے جیل سے فرار ہو گیا۔اب گا ما خان کی بدقسمتی کہئے کہ جلد ہی دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔انگریز جج کے سامنے پیش ہوا تو اس نے سوال کیا کہ تم جیل سے کیسے فرار ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوابًا گاما خان نے کہا کہ اگراسےرہا کردیا جائے تو وہ جیل سے فرار کا معاملہ بتا دے گا ۔ انگریز سرکار کے وعدے پر "گا ما خان" نے فرار کا راستہ بتا دیا جیل کا روشن دان بند کردیاگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورگاما خان کو جیل میں ڈالنے کی بجائے ملک بدر کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ملکوں ملکوں گھومتا لبنان جا پہنچا ۔وہیں شادی کی بچے ہوئے زندگی کی گزر بسر کا سامان کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔اس کے والدین اس کی راہ تکتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔لیکن گاما خان ایسا گیا کہ پھر کبھی واپس نہ لوٹا۔گھر والوں کو صرف اتنا معلوم تھا کہ وہ لبنان میں ہے۔
لبنان جانے والی تبلیغی جماعت میں ہمارے شہر کے ایک آدمی کے ذریعے ان سے رابطہ ہوا اور خط وکتابت شروع ہو گئی اور پھر ایک دن صبح میں سو کر اٹھاتو دیکھا کہ گھر کے مہمان خانے میں ایک "سوٹڈ بوٹڈ" شخص آیا بیٹھا ہے۔ معلوم ہوا یہ گاما خان ہیں۔ایک ماہ سے زائد عرصہ پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس لوٹ گئے اور پھر کچھ ہی عرصہ بعد داعئی اجل کو لبیک کہ دیا۔
ان کے ایک بیٹے احمد خان طویل عرصہ خط و کتابت کے ذریعے ہم سے رابطے میں رہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ رابطہ کمزور پڑتے پڑتے ختم ہو گیا۔ کل سہ پہر کلینک کے ایک دراز کی صفائی کرتے ہوئے احمد خان کا ایک خط نظر سے گزرا خوبصورت عربی میں لکھا ہوا خط ۔۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ میں ایک دوسرے کاغذ پر اس کا اردو ترجمہ۔
اس خط نے مجھے ایک نئی سوچ عطا کردی ۔۔۔۔۔۔ میرے رب نے بھی اپنے بندوں کے نام ایک خط لکھا ہے اور وہ خط بھی عربی میں ہی ہے مفسرین حضرات نے اس کی خوبصورت تفاسیر لکھ کر ہم پر اسے سمجھنا آسان کر دیا۔
ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے آسان کر دیا تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا

بدھ، 24 جولائی، 2013

ایک حملہ ،،،،،، ایک سازش

4 comments


بنو مخزوم کے تاج کا سب سے روشن ہیرا،جو کسی بھی میدان جنگ کی آبرو ہوا کرتا تھا، فتح جس کے منہ زور گھوڑے کے
 قدم چومنے کو اپنی سعادت سمجھتی،جس کے نیزے کے ایک اشارے پر جوان اپنے کشادہ سینے سنانوں پر بچھادینے پر بازی لے جاتے۔کہ جس کے پاس درہم ودینار کا نہیں اپنے فتح کئے ہوئے علاقوں اور قلعوں کا حساب ہوا کرتا تھا۔وہ ایسا تھا کہ جو اپنی زندگی میں ہی ایک فسانہ بن چکا تھاوہ جب میدانِ جنگ میں اپنے شانے سے برچھا کھینچتا تو صفوں کی صفیں درہم برہم ہو جاتیں، اور مصلّے سے گھوڑے کی پیٹھ تک کوئی اس کا ثانی نہ تھا۔
ایک ایسا بے مثال بہادر کہ جس کی یلغار کو روکنے کیلئے دشمن یوں متحد ہوئے کہ عورتوں نے اپنا زیور،بوڑھوں نے قدیم خزانے اور بچوں نے اپنے کھلونے تک بیچ ڈالے۔لیکن اس کی یلغار کے آگے بند نہ باندھا جا سکا۔اور اس کی یلغار کو روکا بھی کیسے جا سکتا کہ جسے سیّدالمجاہدین امام الانبیاءنبی خاتم المرسلین جنابِ رسول اللہ ﷺ نے سیف اللہ کا خطاب دیا تھا۔تاریخ جنہیں حضرت خالد بن ولید ؓ کے نام سے جانتی ہے۔ 
بستر مرگ پر لیٹے ہوئے یہ شیر دل مجاہداپنے قریب بیٹھے لوگوں سے مخاطب ہوتا ہے۔” میں نے ان گنت جنگوں میں حصہ لیا۔ کئی بار اپنے آپ کو ایسے خطروں میں ڈالا کہ جان بچانا مشکل نظر آتا تھا لیکن شہادت کی تمنا پوری نہ ہوئی۔ میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں تلوار‘ تیر یا نیزے کے زخم کا نشان نہ ہو۔ لیکن افسوس ! موت نے مجھے بستر پر آدبوچا۔ میدان کار زار میں شہادت نصیب نہ ہوئی۔“کوئی زندگی سے زیادہ جی نہیں سکتا اور موت سے پہلے مر نہیں سکتا اگر میدان جہاد میں موت ہوتی تو آج خالد بن ولید ؓیوں بستر مرگ پر ایڑیاں نہ رگڑ رہا ہوتا۔ 
یہ عظیم المرتبت مجاہد کہ جس کے گھوڑے کے سموں نے روم و ایران کی سلطنت کو تاخت و تا راج کیا ۔ عین حالت جنگ میں جب لوہا لوہے سے اور نیزہ نیزے سے ٹکرا رہا تھا کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراع ؓنے ان کے آہن میں ڈھلے بازو پر ہاتھ رکھ کر وہ پیغام خلافت سنایا کہ جس میں امین الامّت ابو عبیدہ بن الجراع ؓ کو یرموک میں موجود عساکر اسلام کا سپہ سالار مقرّر کیا گیا تھا۔اور پھر وہ جو شکست سے نا آشنا تھا اپنے گھوڑے سے اترا اور قبلہ رو ہو کر سر بسجود ہو گیااور جب سجدے سے سر اٹھایا تو نئے سپہ سالار کو سوگوار آواز میں یہ کہتے سنا کہ خد اشاہد ہے میں نے کبھی بھی اس منصب کی خواہش نہیں کی لیکن مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ تمہیں ابھی یہ فرمان پہنچاؤں اور اس کے ساتھ ہی نئے سپہ سالار کی آنکھیں بھیگ گئیں۔خالد بن ولیدؓ نے نیزہ زمین میں گاڑا اورفرمایا امین الامّت آنسو پونچھ ڈالئے خالدؓ اتنا کم ظرف نہیں کہ اس سوتے پھریرے کے کندھوں سے اتر جانے کے ملال میں جہاد کیلئے اٹھی تلوار کو نیام میں ڈال لے خالد ؓ یہ لڑائی نبی آخری الزماںﷺ کے جھنڈے کی آبرو کیلئے لڑ رہا ہے عمر بن خطاب ؓ کی خوشنودی کیلئے نہیں مجھے حکم دیجئے کہ لشکر کے کس بازو پر ایک عام سپاہی کی طرح جنگ کروں۔جن قوموں کو ڈوبنا نہ ہو وہ سیف اللہ ؓ ہی کی طرح ڈسپلن کو اپنی زندگی
میں عام کرتی ہیں۔


اور حضرت بی بی زینب ؓوہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے یزید کے بھرے دربار میں دلیرانہ طور پر اس کی یزیدیت اور بربریت کو شدید مذمت کا نشانہ بنایا۔ حضرت بی بی زینب ؓ کا یزید کے دربار میں یہ اہم خطبہ تاریخ کا اہم ترین حوالہ بن چکا ہے۔ 
سیدہ زینب ؓاور حضرت خالد بن ولید ؓ دونوں ہی جلیل القدر شخصیات ہیں۔ ایک نے یزید کے دربار میں کھڑے ہوکر اعلاے کلمة اللہ بلند کیا تو دوسرے نے اللہ کی زمیں پر اللہ کا نظام قائم کرنے کیلئِے روم اور ایران جیسی عظیم الشان سلطنتوں کو اپنے گھوڑے کےسموں تلے روند ڈالا۔
ان کے مزاروں کو نشانہ بنانا کسی بڑے کھیل کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بات میں وزن ہے کہ فرقہ ورانہ فسادات کرانے کیلئِے یہ ڈرامہ رچایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں یہ خلیج مزید گہری ہوگی۔دشمن ہمیں شیعہ ، سنی اور دیوبندی، بریلوی میں تقسیم کروا کے پہلے ہی سے ٹکڑوں مین بٹی امّت مسلمہ کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ 
ہے کوئی ایسا حکمران جو اس سازش کو سمجھے اور آگے بڑھ کو دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دے

جمعہ، 19 جولائی، 2013

قیمتی متاع

2 comments


 کبھی میں سوچتا ہوں کہ د نیا میں انسان کی سب سے قیمتی متاع کیا ہے۔ وہ ہستی کہ جس کی دعا ؤں سے ہر مشکل آسان لگے۔۔۔ کہ جس کی آغوش میں آ کر انسان اپنے تمام دکھوں، پریشانیوں اور آہوں کو بھلا دے اور ایسی راحت محسوس کرے کہ اس جیسی راحت کہیں اور نہ ملے، اور جو ہستی اس کیلئے تمام تر صعوبتوں کو بخوشی جھیل لے۔سوچتے سوچتے جب کوئی جواب نہ بن پائے تو دل کے نہاں خانے سے ایک صدا آتی ہے کہ وہ ہستی تو ماں ہے جو اپنی اولاد کے لیئے ٹھنڈی چھاؤں کا درجہ رکھتی ہے۔ اور اس ہستی کے بارے میں کچھ پڑھتے، لکھتے یا سنتے ہوئے آنکھیں ہمیشہ نم ہو جاتی ہیں۔انورمسعود کی زبان سے ماں کے حوالے سے ان کی مشہور نظم "امبڑی" سنتے ہوئے تو میں دیر تک بیٹھا روتا رہا۔
 اورجب میں نے کسی کتاب میں پڑھا کہ والدہ کی وفات کے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں ٹھوکر لگی تو غیب سے آواز آئی ”اے موسیٰ! سنبھل کر چل اب تیرے پیچھے دعا کرنے والی تیری ماں موجود نہیں ہے"۔ تو میں دیر تک گم سم رہا کہ وہ تو وقت کے پیغمبر تھے اور میں آج کے دور کا ایک بھولا بھٹکا انسان کہ جو شاید دعاؤں کے سہارے ہی چل رہا ہے ا س کے پیچھے دعاؤں میں اسے یاد رکھنے والی ہستی تو ایک عرصہ ہوا اس دنیا سے رخصت ہو چلی۔اور پھر تصور ہی تصور میں آج سے 30 برس قبل کا وہ منظر نگاہوں میں گھوم گیا جو کل کی طرح آج بھی تازہ ہے۔
جون کی گرمی کی وہ تپتی ہوئی دوپہر اور رمضان کی 9 تاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں پانی کی بالٹی میں چلتی پوئی" سٹیم بوٹ " سے کھیلنے میں مصروف تھا کہ صحن میں جھاڑو لگاتی ہوئی وہ چکر کھا کر گرگئیں۔اور پھر چند ہی لمحوں میں "الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا"کے مصداق وہ مہربان ہستی ہم سے بہت دور جا چکی تھی۔۔۔۔آج بھی لوگ ان کی مہمان نوازی ،قربانی ،ایثار اورصبرو رضا کی مثالیں دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ آج پھر نواں روزہ ہے موسم میں گرمی کی شدّت تو نہیں لیکن آنکھیں گرم گرم آنسوﺅں سے لبریز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزرے ہوئے تیس برس ہر لمحہ ان کی یادوں اور دعاؤں کی کمی بے چین کئے رہی تکلیف،دکھ اور پریشانی سے زیادہ خوشی،مسرت اورآسائش کے لمحات نے ان کی کمی کو زیادہ محسوس کروایا۔۔آپ سبھی دوستوں سے درخواست ہے جب افظاری کے وقت دعاکیلئے ہاتھوں کو اٹھائیں تو میری امّی جان کو بھی یاد رکھئے۔ آپ کا مشکور ہوں گا۔


سوموار، 15 جولائی، 2013

یہ جدوجہد تو کسی طور رکنے والی نہیں

2 comments

زندگی کے بعض دکھ اس قدر گھمبیر ہوتے ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتے ۔ان کی کسک زندگی کے ساتھ قائم رہتی ہے۔پاکستان کے دو لخت ہونے کا دکھ ہر درد دل رکھنے والے پاکستانی کیلئے ایک بہت بڑا المیہ تھا۔لیکن مجھے اس المیے اور دکھ کا احساس اپنی عمر کی پندرہ بہاریں دیکھنے کے بعد اس وقت ہوا جب میں نے سلیم منصور خالد کی کتاب"البدر"اور طارق اسماعیل ساگر کی کتاب "لہو کا سفر"کا مطالعہ کیا۔قیام بنگلہ دیش کا سانحہ اگر چہ میری پیدائش سے بھی تین سال پہلے کا ہے لیکن یہ دونوں کتابیں پڑھنے کے دوران میں تصوّرمیں اپنے آپ کو ڈھاکہ اور چٹا گانگ کی گلیوں اور بازاروں میں کمسن لیکن پر عزم البدر اور الشمس کے مجاہدین کے شانہ بشانہ پاکستان کی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے دیکھتا رہا۔اورپھر پاکستان کے دولخت ہونے کا یہ دکھ میری زندگی کا ایک مستقل روگ بن گیا۔جو کبھی بھولے سے بھی بھلایا نہ جاسکا۔شاید یہی وجہ ہے کہ میں جب کبھی پاکستان کی محبت سے سرشاراپنے بنگالی بھائیوں کو دیکھتا تو ان کے احترام میں میرا سر ہمیشہ جھک جاتا۔کس قدر عظیم ہیں وہ لوگ کہ جنہوں نےا اپنے گھر بار اور بچے قربان کر دیئے لیکن پاکستان سے محبت کے جذبوں پر آنچ نہ آنے دی ۔ کہ جنہیں نہ کبھی پاکستان نے تسلیم کیا نہ کبھی بنگلہ دیش نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو بنگلہ دیش میں بستے ہوئیے بھی پاکستان سے محبت کا دم بھرتے رہے۔اور اپنے ہی وطن اپنے ہی دیس اپنی جنم بھومی بنگلہ دیش میں جنگی مجرم قرار پائے
90 سالہ بوڑھے پروفیسر غلام اعظم کو 90سال قید کی سزا سنائے جانے کی خبر سن کر پاکستان کے دولخت ہونے کا دکھ ایک بار پھر تازہ ہو گیا۔پروفیسر غلام اعظم کو40سال قبل کے واقعات کے حوالے سے ”انسانیت کے خلاف جرم کے ارتکاب“ کے نام نہاد الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ 90 سالہ بوڑھے پروفیسر غلام اعظم نہ ٹھیک سے چل سکتے ہیں، نہ صاف دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی صاف سن سکتے ہیں۔ اس کے باوجودمسلح پولیس اہلکار24 گھنٹے ان کی نگرانی پر متعین ہیں۔آج سہ پہر پاکستان سے محبت کے اس مجرم کو 90سال سزائے قید سنا دی گئی۔یہاں یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ گزشتہ 40سال میں، پروفیسر غلام اعظم اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی موجودہ قیادت کے خلاف کسی قسم کا کوئی فوجداری کیس، نہ حکومت کی طرف سے اور نہ ہی کسی شہری کی طرف سے دائر کیا گیا۔ بنگلہ دیش کے کسی بھی تھانہ میں کوئی ایف آئی آر تک درج نہ ہوئی۔ ان 40 برسوں کے دوران عوامی لیگ دو بار حکومت میں آئی، لیکن جماعت کی قیادت کے خلاف اس طرح کا کوئی سنگین الزام ان ادوار میں بھی نہیں لگایا گیا۔ مگر2009 میں جب یہ تیسری بار اقتدار میں آئی ہے تو جماعت کی قیادت پر ”انسانیت کے خلاف جرائم“ جیسے سنگین مقدمات بنانا شروع کردیے ہیں۔ آخرایسا کیوں کیا جا رہا ہے ؟ اپنے ایک انٹرویو میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر غلام اعظم کہتے ہیں کہ ایسا سیاسی انتقام کی خاطرہو رہا ہے۔ حکومت، جماعت کو بے دست و پا کرکے، اپنے خلاف سیاسی اتحاد کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ تادیر اقتدار میں رہ سکے۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی جنگی جرائم سے متعلق عدالت کا یہ پانچواں فیصلہ ہے جو اس نے جماعتِ اسلامی کے موجودہ اور سابقہ رہنماؤں کے خلاف دیا ہے۔
پروفیسر صاحب نے ایک بار ہفت روزہ "ایشیا" کو ایک انٹریو دیتے ہوئے یہ بات بتائی تھے کہ وہ سیاست میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنے دینی شوق اور پیاس کی خاطر تبلیغی جماعت سے بھی وابستہ تھے۔ اس وقت بھی تن دہی سے اللہ کے دین کی دعوت دیا کرتے تھےاور لوگوں کی درست رہنمائی کیا کرتے تھے۔ پھرایک بار ایسا ہوا کہ جماعت اسلامی کے کسی پروگرام میں شرکت کا موقع ملا اور ایک مقرر نے دوران تقریر یہ بات کہی کہ  یہ نماز روزہ اور زکوٰةاور حج تو کسی بڑے مقصد کی طرف تیاری کا وسیلہ ہیں۔ یقینا اللہ کو نمازیں پڑھوانا مقصود نہ تھا۔ نماز کے اندر جو اقامت دین کی تعلیم ہے اس کا نفاذ مقصد تھا۔پروفیسر صاحب کا فرمانا تھا کہ مقرر کی یہ بات سن کر میں ساری رات اس بات پر سوچ وبچار میں رہا کہ دین کا کام جو میں کر رہا ہوں کیاوہ اقامت دین کا کام ہے اور پھر مولانا مودودی کی تحریروں تک رسائی ہوئی توان تحریروں نے ان کے دل  کی دنیا ہی بدل دی۔ انھوں نے کہا کہ بس وہ جت گئے اور ہر طرح سے اللہ سے پھرے ہوئے نظام کو پلٹنے کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اس کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہندووانہ تہذیب اور معاشرت ہے ، جو اس وقت کے مشرقی پاکستان کے اندر سرایت کر رہی تھی۔ انھوں نے ہندوستا نی تہذیب و تمدّن کی مخالفت اوربھارتی تسلط کی مخالفت کی۔ اس کے لئے نوجوانوں کو منظم کیا۔ عبد المالک شہید ، ڈاکٹر مصطفی شوکت عمران شہید اور شاہ جمال چوھدری شہید ان ہی کے لگائے ہوئے پودے تھے۔ یہ بھارت کو کیسے ٹھنڈے پیٹوںبرداشت ہوپاتا۔ بس اسی لئے ان کو نشان عبرت بنانے کا تہیہ کیا گیا۔ آج اس کا ڈراپ سین ہے۔۔
 لیکن یہ جدوجہد تو کسی طور رکنے والی نہیں
مٹّی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

جمعرات، 11 جولائی، 2013

استقامت وعزیمت کی روشن مثالیں

12 comments

میرے پاس تاریخ کے جھروکوں سے ایک تصویر ہے آیئے میں آپ کو وہ تصویر دکھاتا ہوں
یہ 12فروری1949کا دن ہے ۔ مصر کے بادشاہ فاروق کے حکم پر اخوان المسلمون کے بانی مرشد عام امام حسن البنا شہید کو رات کی تاریکی میں دھوکے سے مذاکرات کے بہانے بلا کر اندھا دھند فائرنگ کرکے شہیدکر دیا گیا ..اناللہ واناالیہ راجعون
اور میں چشم تصور سے دیکھ رہا ہوں اب نماز جنازہ کا وقت ہو چلا ہے ۔تمام کارکنان پابند سلاسل ہیں عام افراد پر بھی گھروں سے نکلنے پر پابندی ہے.....کسی کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ہے .....
شہید کے والد کا کہنا ہے"گھر میں کوئی مرد نہیں کچھ افراد کو بھیجو جنازہ اٹھا کرگاڑی میں رکھ دیں".....
سرکاری جواب ملتا ہے "مرد نہیں ہے تو عورتیں جنازہ اٹھا ئیں"..
ان کی اہلیہ,ان کی بہن،18سالہ بیٹی اور 90 برس سے متجاوز والد جنازہ اٹھاتے ہیں۔
اور پھر
شہید باپ کی روح کو مخاطب کرکے بیٹی نے کہا..............
"باباجان آپ کے جنازے کے ساتھ لوگوں کا ہجوم نہیں ہے۔زمین والوں کو روک دیا گیا ہے مگر آسمان والوں کوکون روک سکتا ہے"
جامع مسجد قیسوم.... بندوقوں کے سائے میں جنازہ پڑھا گیا پھر امام شافعی کے قبرستان میں تدفین...سلسلہ چلتا رہا اور قافلہ بھی اور پھر .... 24 جون 2012ء کی روشنی.......جب حسن ا لبنا شہید کی اخوان مصر میں حکمران بنی ۔۔۔۔۔۔۔۔
منظر بدلتا ہے اور ایک اور تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے
3جولائی 2013مصر میں اخوان کی منتخب حکومت فوجی طالع آزماؤں کے ہاتھوں اختتام کو پہنچتی ہے۔ مصری صدر محمد مرسی سمیت ہزاروں کارکنان ایک بار پھر پابندِ سلاسل کر دئیے جاتے ہیں۔ایسے میں صدر مرسی کا بیٹااسامہ مرسی اپنے باپ سے مخاطب ہے۔
"ابا جان اگر آپ تک میرا پیغام پہنچ رہا ہے تو سنیں " کہ آپ کی پوری فیملی میدان رابعہ العدویہ میںاپنے ہم وطنوں کے ساتھ موجود ہے۔آپ اپنے نظریات کے ساتھ ثابت قدم رہیں،غاصبوں اور ظالموں کے سامنے ہر گز نہ جھکیںخواہ حق کی خاطر آپ کو موت ہی کو کیوں نہ گلے لگا نا پڑے۔اور اگر آپ راہِ خدا میں کام آگئے تو ہم رب کے حضور سجدہِ شکر ادا کریں گے۔اسامہ مرسی کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے ان سے اپنی آخری گفتگو میں کہا تھا کہ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کردیا جاؤں تو آپ لو گ رنج وملال کی بجائے صبر وبرداشت سے کام لینا۔
حق کی راہ پر چلنا پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بستر ہے ۔کس قدر مشترک ہیں یہ دونوں پیغامات۔ایک شہید قائد کی بیٹی کا اپنے باپ کیلئے اور دوسرا ،ایک پابند سلاسل قائدکے بیٹے کا اپنے والد کے نام
اپنے کارکنان کے اس قدر خوبصورت تربیّت کرنے والی تحریکیں کیا ناکامی سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

منگل، 9 جولائی، 2013

رمضان مبارک

3 comments


اپنے گناہوں کی دلدل میں پھنسے،عصیاں کی تاریک وادیوں میں بھٹکتے،ظلم وجور کے ان دیکھے انجام کی طرف بڑھتے اورفسق وفجور میں ڈوبے ہوئے انسانوں کیلئے شعبان کی آخری تاریخ میں مغرب کے قریب افق پر خدا کی رحمتوں اور بخششوں کا اعلان کرتا ہوا چاند نمودار ہونے کوہے۔جسے دیکھ کر اہل اسلام کے لبوں پر بے ساختہ یہ دعا آجاتی ہے 

اَللّٰهُمَّ اَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْاِيْمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ وَالتَّوْفِيْقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی رَبِّيْ وَرَبُّکَ اﷲُ.
’’اے اللہ! اس چاند کو ہم پر برکتِ ایمان، خیریت اور سلامتی والا کردے اور (ہمیں) توفیق دے اس(عمل) کی جو تجھے پسند اور مرغوب ہو (اے چاند!) میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔‘‘
سنن دارمی ،ج 1،حدیث 336
رمضان المبارک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیکیوں کا موسمِ بہار کہ جس کی آمد میں ابھی کچھ ہی گھڑیاں باقی ہیں۔اس کی برکتوں اوررحمتوں کا اندازہ اس مشہور حدیث سے ہو تا ہے جسے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے روایت فرمایا کہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام ؓ کو ایک خطبہ دیا -جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک عظیم اوربا برکت مہینہ سایہ فگن ہوا چاہتا ہے ،جس کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، اللہ تعالی نے اس مہینے کے روزے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں کے قیام کو نفل قراردیا ہے پس جو شخص اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے اس مہینے میں کوئی غیر فرض عبادت (یعنی سنت یا نفل) ادا کریگا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا ، اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر (70) فرضوں کے برابر ملے گا
اوریہ کہ رمضان صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے - اور یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے - جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے افطار کرایا تو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور جہنم سے آزادی کا ذریعہ ہوگا ، اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے - آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جوکسی کو دودھ کی لسی پلا دے یا پا نی کا ایک گھونٹ ہی پلا دے۔اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلادے تو اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا - اس کے بعد آپ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ماہ مبارک کا پہلا حصہ رحمت ہے ، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے - اس کے بعد آپ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام کے کام میں کمی کردے گاتو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی دے گا (بیہقی)
بخاری کی ایک حدیث ہے کہ :نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت رمضان میں دیگر ایام سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے جو تازگی لاتی ہے۔
 خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مقدس مہینے کے تقاضوں کو کامل خلوص اور غیرفانی لگن کے ساتھ پورا کرتے ہوئے دنیا و آخرت کی سعادتوں اور شادمانیوں سے سرفراز ہوں گے
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ اس رمضان کو ہماری زندگیوں میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنا دے اور رب تعالٰی اسے ہماری بخششوں کا ذریعہ بنا کر ہمیں اپنی جنتوں کا حقدار بنا دے۔ آمین

اس بلاگ کی تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

................................................................................

................................................................................
.

Google+ Followers